اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، چکوال، مری میں بڑا کومبنگ آپریشن، متعدد افغانی گرفتار
اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، چکوال اور مری میں ریاستی رٹ کے نفاذ کے لئے بڑا سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کیا گیا۔
سیکٹر جی نائن، پشاور موڑ، جی نائن مرکز اور گرد و نواح میں مشترکہ کارروائیاں کی گئیں، راولپنڈی کے پیر اورنگزیب ٹاؤن، پیر صاحبہ ٹاؤن، کرسچین کالونی، اعوان ٹاؤن اور مصریال روڈ میں سرچ آپریشن کیا گیا۔
پنڈورا اور کٹاریاں سمیت مختلف علاقوں میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، جہلم کے ایاز ٹاؤن، غازی ٹاؤن، منگلا روڈ، چک آکا، دینہ کی کچی آبادیوں میں کارروائیاں کی گئیں، چکوال سٹی، صدر، نیلہ، ڈھوڈیال، کلر کہار اور ونہار میں دہشت گردی خدشات کے پیش نظر سرچ آپریشن کیا گیا۔
مری کے ایم آئی ٹی اور گھیکا گلی میں پولیس اور انٹیلیجنس اداروں نے مشترکہ کارروائی کی، رینجرز، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی، ڈولفن سکواڈ اور انٹیلیجنس اداروں نے کارروائی میں مشترکہ شرکت کی، 368 اہلکاروں اور متعدد سیکشنز پر مشتمل مربوط آپریشنل فریم ورک فعال کیا گیا۔
غیر قانونی افغان شہریوں کی سکریننگ، رہائشی ریکارڈ اور کرایہ داری معاہدوں کی سخت جانچ پڑتال کی گئی، جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات برآمد کر لی گئی۔
اسلام آباد میں 317 گھروں، 93 دکانوں، 27 ہوٹلز و گیسٹ ہاؤسز، 59 گاڑیوں اور 39 موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کی گئی، اسلام آباد میں 7 مشتبہ افراد اور 4 غیر قانونی افغان شہری گرفتار کر لئے گئے۔
راولپنڈی میں 235 گھروں، 63 افراد، 25 گاڑیوں اور 42 موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کی گئی، راولپنڈی میں غیر قانونی افغان شہری اور جعلی شناختی کارڈ رکھنے والے افراد گرفتار کر لئے گئے، مختلف تھانوں کے علاقوں سے مزید 19 غیر قانونی افغان شہری گرفتار کر لئے گئے۔
جہلم میں افغان شہریوں کو پناہ دینے اور کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں کی گئیں، جہلم میں اشتہاری ملزم گرفتار کرکے غیر قانونی رائفل برآمد کر لی گئی، چکوال میں 174 گھروں اور دیگر مقامات کی تلاشی لی گئی، 73 افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال بھی کی گئی۔
چکوال میں 30 مشتبہ افراد کی تفصیلی سکریننگ کی گئی، غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا گیا، مری میں 50 گھروں، 95 گاڑیوں اور 20 افراد کی چیکنگ کی گئی۔
سکیورٹی اداروں نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔