خامنہ ای کی میت کی تصویر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو دکھا دی گئی: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو دکھا دی گئی ہے۔
ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اب نہیں رہے، آیت اللہ خامنہ ای کا کمپاؤنڈ تباہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور سینئر جوہری کمانڈر بھی مارے گئے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپائونڈ پر 30 بم گرائے گئے تھے۔
امریکا کے فوکس نیوز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، امریکی حکام کا ماننا ہے کہ خامنہ ای اور 5 سے 10 اعلیٰ ایرانی رہنما کمپاؤنڈ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کو بھی نشانہ بنایا گیا، خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو دکھا دی گئی، ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بنکر میں تھے۔
ایرانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر خیریت سے ہیں جبکہ ترجمان ایرانی سپریم لیڈر آفس کا کہنا ہے کہ دشمن اعصابی جنگ کا سہارا لے رہا ہے، ایرانی عوام ہوشیار رہیں، عوام دشمن کے پروپیگنڈے سے آگاہ رہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر خامنہ ای محفوظ ہیں، تاہم ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور بہو شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی سفارتخانے کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ان کی اہلیہ زہراحداد عادل شہید ہوئی ہیں، سید مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے تھے۔