دنیا نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کا لائسنس دے دیا: فرانسسکا البانیز

نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی خصوصی معاون فرانسسکا البانیز کا کہنا ہے کہ دنیا نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کی اجازت دے دی ہے۔

امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ماہر فرانسسکا نے کہا ہے کہ دنیا نے اسرائیل کو فلسطینیوں پر تشدد کرنے کا لائسنس دے دیا ہے، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زندگی جسمانی اور ذہنی اذیت کا ایک مسلسل سلسلہ بن چکی ہے۔

فرانسسکا البانیز 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ہیں، انہوں نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیل میں تشدد مؤثر طور پر ریاستی پالیسی بن چکا ہے، اسرائیل کو مؤثر طور پر فلسطینیوں پر تشدد کی اجازت دے دی گئی ہے، کیونکہ آپ کی بیشتر حکومتوں اور وزراء نے اسے ہونے دیا ہے۔

تشدد و نسل کشی کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ پہلے پسِ پردہ ہوتا تھا، اب کھلے عام کیا جا رہا ہے، منظم تذلیل، تکلیف اور ذلت کا ایک نظام، جسے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر منظوری حاصل ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تشدد صرف جیلوں اور تفتیشی کمروں تک محدود نہیں ہے، بڑی تعداد میں بے دخلی، محاصرے، امداد اور خوراک کی فراہمی سے انکار، بے لگام فوجی اور آبادکار تشدد، اور ہمہ گیر نگرانی اور خوف کے مجموعی اثرات کے باعث مقبوضہ فلسطینی علاقے اجتماعی سزا کی ایک ایسی جگہ بن چکے ہیں، جہاں زندگی کی بنیادی شرائط کی تباہی، نسل کشی پر مبنی تشدد کو اجتماعی اذیت کے ایک آلے میں تبدیل کر دیتی ہے، جس کے طویل مدتی ذہنی اور جسمانی اثرات مقبوضہ آبادی پر پڑتے ہیں۔

فرانسسکا البانیز کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اپنی تحقیقات پر شدید ردعمل کا سامنا ہے اور انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 72,263 افراد جاں بحق اور 171,944 زخمی ہو چکے ہیں، جو کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حکام نے 18,500 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں کم از کم 1,500 بچے بھی شامل ہیں۔

فرانسسکا البانیز نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ تشدد اور نسل کشی کے اقدامات کو روکیں اور سزا دیں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کا حصہ بننے کی وجہ سے اس کا بڑھتا ہوا استعمال اس خلاف ورزی کو مزید سنگین اور ناقابلِ دفاع بنا دیتا ہے۔

اقوامِ متحدہ سے جاری بیان کے مطابق فرانسسکا البانیز نے کہا کہ اگر عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے ایسے اقدامات کو برداشت کرتی رہی تو پھر خود قانون اپنی معنویت کھو دے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں