نقیب اللہ قتل کیس میں سرینڈر کرنے والے پولیس اہلکاروں بارے اہم پیشرفت سامنے آگئی

کراچی: (دنیا نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس میں سرینڈر کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت منظور کرلی، عدالت نے ملزمان کو فی کس ایک لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا، عدالت نے ملزمان کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ملزمان میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد ، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں، شریک ملزم شیخ محمد شعیب پہلے ہی ضمانت پر رہا ہے۔

فزانہ متین ایڈووکیٹ کے مطابق اہلکاروں کے خلاف ایک بھی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، عدالت نے مزید گواہان پیش کرنے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرلی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے سائیڈ اوپن ہونے کے بعد ملزمان کو لمبے عرصے تک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔

پراسیکیوشن کے مطابق مقدمہ میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جاچکا ہے، مقدمہ میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے۔

ساتوں مفرور ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد خود کو سرینڈر کیا تھا، مقدمہ میں ایک ملزم شعیب شوٹر ضمانت جبکہ امان اللہ مروت سمیت 6 ملزمان گرفتار تھے۔

پراسیکیوشن کے مطابق نقیب اللہ کو جنوری 2018 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں