میٹا کا مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ

نیویارک: (ویب ڈیسک) ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے ایک نیا اور غیر معمولی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق میٹا کمپنی امریکا میں اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز میں ایک نیا ٹریکنگ سافٹ ویئر انسٹال کر رہی ہے جو ماؤس کی حرکت، کلکس اور کی بورڈ کے استعمال کو ریکارڈ کرے گا۔

یہ اقدام دراصل ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو مستقبل میں خودکار انداز میں مختلف دفتری اور روزمرہ کام انجام دے سکیں۔

میٹا دستاویزات کے مطابق یہ ٹول مخصوص کام سے متعلق ایپس اور ویب سائٹس پر فعال ہوگا، اس کے علاوہ بعض اوقات ملازمین کی سکرین کے مواد کے سنیپ شاٹس بھی لئے جائیں گے تاکہ سیاق و سباق کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

یہ معلومات کمپنی کی اے آئی ریسرچ ٹیم خصوصاً ’’میٹا سپر انٹیلی جنس لیبز‘‘ کے ماڈل بنانے کے عمل میں استعمال ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد اے آئی ماڈلز کی ان کمزوریوں کو دور کرنا ہے جہاں وہ ابھی تک مکمل کارکردگی نہیں دکھا پا رہے، جیسے کہ ڈراپ ڈاؤن مینیو سے درست آپشن کا انتخاب اور ’کی بورڈ شارٹ کٹس‘ کا مؤثر استعمال کرنا۔

اس سلسلے میں کمپنی ترجمان اینڈی اسٹون کا کہنا ہے کہ روز مرہ کام کرتے ہوئے ملازمین کا طرزِ عمل ہی اے آئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

کمپنی ترجمان نے وضاحت دی کہ جمع کیا جانے والا تمام ڈیٹا ملازمین کی کارکردگی جانچنے یا کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوگا بلکہ صرف اے آئی ماڈلز کی تربیت تک محدود رہے گا، حساس معلومات کے تحفظ کیلئے مناسب حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کمپنی ایسے اے آئی ایجنٹس بنانا چاہتی ہے جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر استعمال کر سکیں تو اسے حقیقی مثالوں کی ضرورت ہوگی یعنی یہ سمجھنا کہ لوگ ماؤس کیسے چلاتے ہیں، بٹن کیسے کلک کرتے ہیں اور مینیو میں سرچنگ کیلئے کون سا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں