جہیز میں پرندوں کے پانی پینے کے برتنوں نے روایت بدل ڈالی
جے پور: (ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر باڑمیر میں ایک خاندان نے شادی پر پرانی روایات کو بدلتے ہوئے جہیز میں پرندوں کے پانی پینے کے برتن دے دیئے۔
راجستھان کے نرپت سنگھ نے ثابت کیا کہ ذمہ داری اور ماحولیاتی شعور کا پیغام عام کرنے کے لیے شادی ایک بہترین جگہ ہے، ان کے خاندان نے جہیز کے طور پر پرندوں کے لیے پانی کے برتن تحفے میں دینے کا انتخاب کیا۔
گرین مین کے نام سے مشہور ماہر ماحولیات نرپت سنگھ راجپوروہت نے اپنی بھتیجی انجو کنور کی شادی کو نہ صرف خاندان بلکہ اس میں شرکت کرنے والوں کے لیے بھی یادگار بنانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنی بھتیجی کو جہیز میں پرندوں کے پانی پینے کے لیے مٹی کے 501 برتن تحفے میں دیے تاکہ سخت گرمی کے موسم میں پرندے اپنی پیاس بجھا سکیں۔
راجستھان کی ریاست میں ان کا یہ اقدام جہیز کی قدیم روایات کے خلاف ایک پیغام کے طور پر دیکھا گیا ہے، تاہم یہ صرف ایک علامتی اقدام نہیں تھا بلکہ دُلہا اور باراتیوں پر زور دیا گیا کہ وہ عہد کریں کہ وہ ان برتنوں کو باقاعدگی کے ساتھ پانی سے بھریں گے، خاص طور پر سخت گرمیوں کے موسم میں جب پرندے زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے نَرپت سنگھ کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنا ہے کہ ہماری طرح پرندوں کی بھی کھانے پینے کی ضروریات ہوتی ہیں، لہٰذا ہمارے لیے فطرت سے دوبارہ جُڑنا نہایت ضروری ہے۔
نئے شادی شُدہ جوڑے، انجو کنور اور پروین سنگھ راجپوروہت نے اس موقع پر کہا کہ شادی نے انہیں ہمدردی اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
نَرپت سنگھ کے اس اقدام نے خاندانی تقریب کو ایک بڑے سماجی پیغام میں بدل دیا، وہ کہتے ہیں کہ پانی سے بھرے مٹی کے برتن شدید گرمی میں پرندوں کو راحت فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر چڑیوں کو، جن کی تعداد ملک کے کئی حصوں میں کم ہو رہی ہے۔
دُلہا اور دلہن کے خاندانوں اور رشتہ داروں نے نہ صرف اس اقدام کا خیرمقدم کیا بلکہ اس کے ذریعے دیے گئے پیغام کو بھی سراہا، اس حوالے سے دُلہا کے بھائی کوجراج سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ تحفہ فخر سے قبول کیا اور اس کے ذریعے جو نئی سوچ سامنے آئی ہے وہ بہت مثبت ہے۔
مقامی ماہر تعلیم پریم سنگھ راجپوروہت کے مطابق ایک ایسے معاشرے میں جہاں جہیز سے متعلق جرائم اب بھی سامنے آتے رہتے ہیں، اس طرح کی مثالیں انسان کی سوچ میں تبدیلی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔