اسرائیل کو ’’قدرت کی سزا‘‘، شہد کی مکھیوں کے بڑے جھنڈ کا حملہ
یروشلم: (ویب ڈیسک) اسرائیل کے مختلف علاقوں میں شہد کی مکھیوں کے بڑے بڑے جھنڈ اچانک نمودار ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر نیتیووت میں ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں ایک ساتھ نمودار ہوئیں، جس کے باعث بازاروں اور تجارتی مراکز میں خوف و ہراس پھیل گیا، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہر طرف اڑتی ہوئی مکھیوں نے ایسا منظر پیش کیا جو کسی فلمی یا قیامت خیز منظر سے کم نہیں تھا، جس کے باعث لوگوں نے خود کو گھروں اور دکانوں تک محدود کر لیا۔
واقعے کے بعد مقامی حکام نے فوری طور پر شہریوں اور کاروباری افراد کو ہدایت جاری کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے، بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ مکھیوں کے ایک بڑے جھنڈ نے ایک فوجی طیارے کی اڑان میں رکاوٹ ڈال دی کیونکہ وہ اس کے انجن کے قریب جمع ہو گئی تھیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، کچھ صارفین نے اسے ایک غیر معمولی قدرتی واقعہ قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے اسے مذہبی حوالوں سے جوڑتے ہوئے قدرتی انتباہ یا سزا سے تعبیر کیا، بعض پوسٹس میں قدیم مذہبی واقعات کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس سے بحث میں مزید شدت آ گئی ہے۔
تاہم ماہرینِ شہد بانی اور ماہرین ماحولیات نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ایک فطری اور موسمی عمل ہے جسے سوارمنگ کہا جاتا ہے، اس عمل کے دوران شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے گرد جمع ہو کر نئی جگہ کی تلاش میں ایک ساتھ نقل مکانی کرتی ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے مناظر عام افراد کے لیے خوفناک محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن یہ مکھیاں عموماً حملہ آور نہیں ہوتیں اور عارضی طور پر کسی جگہ قیام کرتی ہیں، بہار کے موسم اور گرم درجہ حرارت کے باعث پھولوں کی کثرت بھی اس عمل کو تیز کر دیتی ہے۔