پنجاب: ڈومیسائل فیس میں 175 فیصد اضافے کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری
لاہور: (دنیا نیوز) پنجاب کابینہ نے ڈومیسائل فیس میں 175 فیصد اضافے کی منظوری دیتے ہوئے صوبے میں ڈومیسائل کے اجراء کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
نئے فیصلے کے تحت ڈومیسائل فیس 200 روپے سے بڑھا کر 550 روپے مقرر کر دی گئی ہے، اس فیس میں 200 روپے بنیادی فیس، 300 روپے ای افیڈیویٹ اور 50 روپے سروس چارج شامل ہوں گے، حکومتی پالیسی کے مطابق 500 روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے جبکہ 50 روپے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو سروس چارج کے طور پر ملیں گے۔
حکومت نے ڈومیسائل کے حصول کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، شہری اب ڈومیسائل کیلئے آن لائن درخواست دے سکیں گے، فیس e-Pay Punjab کے ذریعے ادا کریں گے، اور تیار شدہ ڈومیسائل کورئیر کے ذریعے گھر بیٹھے وصول کر سکیں گے، اس مقصد کیلئے ایک خودکار ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت موبائل ایپ کے ذریعے ڈومیسائل اپلائی اور فیس ادائیگی ممکن ہوگی، جبکہ نادرا طرز کا ڈیجیٹل ویریفکیشن اور ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا، حکام کے مطابق اس اقدام سے ڈومیسائل کے اجرا کا دورانیہ کم ہو کر صرف 2 سے 3 دن رہ جائے گا۔
کورئیر سروس کیلئے 60 روپے، سکیورٹی پیپر کیلئے 40 روپے، جبکہ ڈیٹا ہوسٹنگ، ایس ایم ایس اور سسٹم مینٹیننس کیلئے 50 روپے شامل کئے گئے ہیں۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے مطابق فی درخواست اوسط لاگت 27.55 روپے بنتی ہے، جبکہ نظام کو چلانے کے لئے سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ خزانہ پنجاب نے فیس میں 150 روپے اضافے پر عوامی برداشت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے مکمل بریک اپ طلب کر لیا ہے، مختلف دستاویزات میں فیس سٹرکچر سے متعلق تضادات، ای افیڈیویٹ اور سٹیمپ پیپر فیس میں فرق، اور کورئیر و سکیورٹی چارجز کی پالیسی پر ابہام کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آن لائن سہولت کے نام پر شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا ہے اور مہنگائی کے موجودہ دور میں ایک بنیادی سرٹیفکیٹ کا حصول بھی مہنگا ہوگیا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ نظام شفافیت، تیز رفتار سروس اور بہتر ڈیٹا مینجمنٹ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔