اے آئی کا بڑھتا رجحان، میٹا کا 10 فیصد ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ
نیویارک: (ویب ڈیسک) دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت پر بڑھتی توجہ کے باعث ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا نے حالیہ مہینوں میں اپنی کمپنی کے اندر اے آئی پر مبنی نئی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ٹیموں کی تنظیمِ نو شروع کی جس کے تحت ملازمین کو اے آئی ٹولز اور پروجیکٹس پر منتقل کیا جا رہا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ میٹا اب چھوٹی، تیز رفتار اور اے آئی فوکسڈ ٹیمیں بنانا چاہتی ہے تاکہ فیصلے جلد اور مؤثر انداز میں کئے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق 8000 ملازمین کو اطلاع دی گئی کہ انہیں نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، کمپنی کے تمام ملازمین کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا، سائبر سکیورٹی اور کانٹینٹ ڈیزائن کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
میٹا تقریباً 7 ہزار ملازمین کو اے آئی سے متعلق ٹیموں میں منتقل کرچکا ہے جبکہ کمپنی رواں سال مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ رواں سال مزید کمپنی بھر میں بڑے پیمانے کی برطرفیوں کا امکان نہیں تاہم مخصوص شعبوں میں محدود کٹوتیاں کی جا سکتی ہیں۔