بجٹ تیاریاں شروع: تجارت کے عالمی فروغ کیلئے ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ

اسلام آباد (مدثر علی رانا) حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں بین الاقوامی سطح پر تجارت کے فروغ کیلئے 76 ایچ ایس کوڈز پر مجموعی طور پر ساڑھے 26 سو سے زائد غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور درآمدات پر ڈیوٹیز میں کمی کیلئے فنانس بل میں اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل، آٹوموبائل، کیمیکلز سمیت متعدد شعبوں کیلئے متعین 76 ایچ ایس کوڈز پر نان ٹیرف بیریئرز ختم کرنے کیلئے حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرا دی ہے۔

دستاویز کے مطابق تمام نان ٹیرف بیریئرز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور موجودہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر میں مجموعی طور پر 2662 غیر ٹیرف رکاوٹوں کو جون 2026 تک ختم کیا جائے گا جبکہ باقی ماندہ نان ٹیرف بیریئرز کو ختم یا آسان بنانے سمیت پورے عمل کو نومبر 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے بتایا گیا کہ بین الاقوامی تجارت کے فروغ کیلئے ڈیوٹیز میں کمی کرنے کیلئے نیشنل ٹیرف پالیسی کو فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گا، حکومت کی جانب سے رواں مالی سال سے تجارت پر ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کے فروغ کیلئے ڈیوٹیز میں کمی کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔

حکومت نے بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کیلئے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر دی گئی یقین دہانی کے دوران ڈیوٹیز میں کمی کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت نئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور یہ اقدامات آئندہ وفاقی بجٹ میں اعلان کئے جائیں گے جن کا مقصد درآمدی ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کے ذریعے کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی کے دوسرے مرحلے میں ڈیوٹی میں کمی کو مالی سال 2027 کے فنانس ایکٹ کے ذریعے قانونی شکل دی جائے گی، اس اقدام کے نتیجے میں مجموعی طور پر اوسط ٹیرف میں نمایاں کمی متوقع ہے جس سے نہ صرف درآمدات کی لاگت کم ہوگی بلکہ ملکی صنعت کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے میں بھی مدد ملے گی، اس پالیسی کے ذریعے حکومت ایک طرف برآمدات میں اضافہ چاہتی ہے تو دوسری جانب غیر ضروری تحفظاتی اقدامات کو کم کر کے مارکیٹ کو کھلا اور شفاف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پالیسی سازوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر پالیسی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ اور صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ این ٹی پی 30-2025 کے تحت کئے جانے والے اقدامات عالمی تجارتی رجحانات سے ہم آہنگ ہیں اور اس کا مقصد پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط تجارتی مرکز کے طور پر ابھارنا ہے، پالیسی کے مختلف مراحل کے ذریعے کاروباری لاگت میں کمی اور تجارتی سہولت کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق آئندہ برسوں میں ٹیرف میں مسلسل کمی سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ مقامی صنعتوں کو بھی مسابقتی بنانے کیلئے معاون اقدامات کئے جائیں تاکہ وہ عالمی منڈی میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں، حکومت نے بین الاقوامی تجارت کو درپیش غیر ٹیرف رکاوٹوں (نان ٹیرف بیریئرز) کو ختم کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کر دیا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق موجودہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مجموعی طور پر 2662 غیر ٹیرف رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مرحلہ وار ختم یا آسان بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں 76 ایچ ایس کوڈز پر لاگو پابندیوں کو جون 2026 کے اختتام تک ختم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو سہل بنانا اور کاروباری لاگت میں کمی لانا ہے تاکہ ملکی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے، باقی ماندہ غیر ٹیرف رکاوٹوں کا جائزہ مختلف مراحل میں لیا جائے گا جس میں سب سے پہلے ان اقدامات پر توجہ دی جائے گی جو معیشت پر زیادہ منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، ان سفارشات کو کابینہ کی کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں ان رکاوٹوں کے خاتمے یا سادہ بنانے سے متعلق حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس پورے عمل کو نومبر 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہوئیں تو اس سے نہ صرف تجارتی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت بھی بہتر ہوگی، اس اقدام کو کاروباری برادری کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پالیسی کے تسلسل اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہوگا تاکہ اس کے ثمرات دیرپا ثابت ہو سکیں، ورنہ پالیسی بنانے کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں