افغان طالبان کے جابرانہ قوانین کیخلاف کینیڈا اور یورپ بھر میں احتجاجی مظاہرے

کابل: (دنیا نیوز) افغان طالبان رجیم کی جانب سے ہرات میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ اور جبری گرفتاریوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور ہرات کریک ڈاؤن کیخلاف کینیڈا، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ مظاہرین نے تعلیم، روزگار، آزادی کے نعرے اور طالبان رجیم کیخلاف فوری عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ کے مظاہرے میں مظاہرین نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ جرمن حکومت افغان طالبان رجیم کے ساتھ تمام سفارتی روابط فوری طور پر ختم کرے، یورپی ممالک کی جانب سے افغان طالبان کیساتھ حالیہ روابط نے رجیم کو خواتین پرمزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بھی سینکڑوں افراد افغان طالبان کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، رجیم کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کینیڈین حکومت سے افغانستان میں خواتین مخالف پالیسیوں اور "جینڈراپارتھائیڈ" کیخلاف فوری سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

سپین اور اٹلی میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے، افغان خواتین سے اظہار یکجہتی کیا، شرکاء نے طالبان رجیم کیخلاف نعرہ بازی کی۔

عالمی ماہرین کے مطابق ہرات کریک ڈاؤن اور اس کیخلاف بیرون ملک مظاہرے طالبان رجیم کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور افغان عوام میں شدید مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، دنیا بھر میں مظاہروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ دکھاتی ہے کہ افغان عوام اب طالبان رجیم کے جابرانہ اقتدار کو مزید قبول کرنے کو تیار نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں