گوگل میپس میں جلد کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرانے کا امکان
نیویارک: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی کے لیے سب سے مقبول ایپ گوگل میپس مستقبل قریب میں اپنے صارفین کو کھانا آرڈر کرنے کی سہولت بھی فراہم کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوگل میپس کے اینڈرائیڈ ورژن کے تازہ ترین کوڈ میں ایک نئے اور انقلابی فیچر کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین جلد ہی چیٹ کے ذریعے براہِ راست اپنی پسند کا کھانا آرڈر کر سکیں گے، یہ نیا فیچر گوگل میپس کے نئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول ’آسک میپس‘ کے ساتھ مربوط ہوگا۔
اس جدید ٹول کے ذریعے صارفین نہ صرف مختلف مقامات، ریسٹورنٹس اور دیگر جگہوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کر سکیں گے، بلکہ اے آئی بوٹ کے ساتھ گفتگو کے دوران ہی کھانے کا آرڈر دینے کا آپشن بھی دستیاب ہوگا۔
ابتدائی معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سہولت صارفین کو دورانِ سفر بغیر کسی پریشانی کے کھانا آرڈر کرنے میں مدد دے گی۔
ایپ کے کوڈ میں موجود مختلف ڈیجیٹل بٹن اور دیگر عناصر اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ گوگل کی ٹیکنیکل ٹیم اس فیچر کی تیاری پر تیزی سے کام کر رہی ہے، کوڈ کے اندر ’ڈرائیو اَپ‘ سروس کا بھی خصوصی ذکر پایا گیا ہے، جس کے تحت صارفین آن لائن آرڈر کیے گئے کھانے کو مقررہ ریسٹورنٹ یا مقام پر پہنچ کر اپنی گاڑی سے اترے بغیر خود وصول کر سکیں گے۔
چند ہفتے قبل گوگل نے اپنی ایک آفیشل بلاگ پوسٹ میں بھی اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ مستقبل میں گوگل میپس کے اندر ہی کھانا منگوانے کی سہولت مستقل بنیادوں پر متعارف کرائی جائے گی۔
تاہم گوگل کی انتظامیہ کی جانب سے اس نئے فیچر کی باضابطہ لانچنگ یا مختلف ممالک میں اس کی دستیابی کی حتمی تاریخ کا ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسے جلد ہی آزمائشی بنیادوں پر چند مخصوص خطوں میں پیش کر دیا جائے گا۔