18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور:( محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہے۔

 عدالت نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے پر پولیس کو قانون کے مطابق تحقیقات کرکے کارروائی کا حکم دے دیا۔

جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری محمد اسلم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے اپنی کم عمر بیٹی حنا اسلم کی مبینہ شادی کرنے والے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت کے روبرو انکشاف ہوا کہ حنا اسلم کی نکاح کے وقت عمر تقریباً 15 سال تھی، درخواست گزار کے مطابق اس کی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ پہلے ہی درج ہوچکا ہے، تاہم کم عمری میں شادی کے نئے شواہد سامنے آنے پر متعلقہ افراد کے خلاف مزید مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے جسٹس آف پیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس کو نئے شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق تحقیقات کا حکم دیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ آیا قابلِ سزا جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا نہیں۔

فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے حنا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس کی حفاظت، فلاح و بہبود اور بہترین مفادات کو مقدم رکھنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی مرضی اہم ہے، تاہم کم عمری کے باعث اسے خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جاسکتا، کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا بنیادی مقصد بچوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔

عدالت نے متعلقہ اداروں کو حنا اسلم کو فوری تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ درخواست گزار اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ پہلے درج کراچکا ہے، تاہم کم عمری کی شادی سے متعلق نئے شواہد سامنے آنے کی صورت میں دوبارہ بھی ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...