امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دینے سے انکار
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا کی وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق نئے قواعد نافذ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
یہ فیصلہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے جبکہ امریکی سپریم کورٹ بھی اسی معاملے پر انتظامیہ کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔
بوسٹن میں قائم فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بنچ نے نچلی عدالت کے حکم کو معطل کرنے سے انکار کردیا جس کے تحت گزشتہ ہفتے امریکی پوسٹل سروس کو نئے قواعد پر عمل درآمد سے روک دیا گیا تھا۔
یہ قواعد صدر ٹرمپ کی ہدایت پر تیار کئے گئے تھے اور ان کا مقصد ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانا ہے، معاملے کا حتمی فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کرے گی، جہاں 6-3 کی قدامت پسند اکثریت موجود ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر معمولی اقدام کے طور پر فرسٹ سرکٹ کورٹ کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی سپریم کورٹ سے نچلی عدالت کے حکم کو ختم کرنے کی درخواست کردی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments