خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ معمولی ترمیم کے ساتھ منظور کرلیا
پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس ختم ہوگیا، کابینہ نے پولیس ایکٹ معمولی ترمیم کے ساتھ منظور کرلیا۔
پولیس ایکٹ کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کی خدمات کو کسی بھی وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر مس کنڈکٹ کی صورت میں واپس کیا جاسکتا ہے۔
پولیس پالیسی بورڈ کا سربراہ وزیراعلیٰ ہوگا، پولیس میں تقرری و تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔
پولیس کے گریڈ 18 اور اس سے اوپر کی تقرری و تبادلے خیبرپختونخوا رولز آف بزنسز 1985 کے تحت ہوں گے، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ کو ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کی سکیورٹی واپس لینے کا معاملہ، سپیکر کا سخت نوٹس
پولیس ایکٹ کے ذریعے حکومت کی اوور سائٹ مضبوط کی گئی ہے، ایکٹ کے تحت پولیس ٹریننگ سکولز کے سربراہان کی تقرری کا اختیار آئی جی کے پاس ہوگا۔
آئی جی کی تقرری کے لیے پرانے طریقہ کے تحت 3 نام وفاق سے صوبائی حکومت کو موصول ہوں گے، آئی جی خیبرپختونخوا کی منظوری پرانے قانون کے تحت ہوگی۔
ایکٹ کے تحت صوبے میں ڈی آر سی نظام کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جائے گا، پہلے سے موجود تمام ڈی آر سیز کو تحلیل کردیا گیا، ڈی آر سیز کے لیے نئے رولز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
آپریشن سے متعلق اختیارات آئی جی پولیس ہی کے پاس رہیں گے، افسران کو پولیس بیج لگانا، ملازمین کی پروموشن سمیت دیگر اختیارات بھی آئی جی پی کے پاس رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments