صدر پوتن کو جی 20 اجلاس میں شرکت کی امریکی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: کریملن
ماسکو: (شاہد گھمن) کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو میامی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی امریکی دعوت کو روس قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم صدر پوتن کی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر پوتن کی جی 20 اجلاس میں ممکنہ شرکت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بارے میں بات کرنا فی الحال قبل از وقت ہے۔ ان کے مطابق روس ہر صورت جی 20 کی سرگرمیوں اور اس کے تحت ہونے والے مختلف فورمز میں اپنی شرکت جاری رکھے گا۔
پیسکوف نے یوکرین تنازع کے حوالے سے کہا کہ روس پرامن تصفیے کے بارے میں اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور مذاکراتی عمل کے لیے تیار ہے، تاہم ماسکو عارضی جنگ بندی کے بجائے پائیدار امن چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تاحال ماسکو میں مذاکرات کی روسی دعوت کو مسترد نہیں کیا۔
یورپی یونین کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آٹھ ارب یورو کی آمدنی یوکرین منتقل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس ایسے اقدامات کو اپنے اثاثوں کی چوری سمجھتا ہے اور اس معاملے پر ماسکو کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
روس کے 2027 سے 2029 کے مجوزہ وفاقی بجٹ سے متعلق سوال پر پیسکوف نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں روسی حکومت اور وزارت خزانہ سے رابطہ کیا جانا چاہیے کیونکہ کریملن اس مسودے کا مصنف نہیں ہے۔
کریملن ترجمان کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشینیان مستقبل قریب میں روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم دورے کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روس آرمینیا کے خودمختار حقوق کا احترام کرتا ہے، لیکن یریوان کو یوریشین اکنامک یونین اور یورپی یونین کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ مختلف معیارات کی جانب بتدریج منتقلی کئی شعبوں میں یوریشین اکنامک یونین کے قواعد سے مطابقت نہیں رکھے گی۔
پیسکوف نے ان اطلاعات سے لاعلمی ظاہر کی کہ یوکرین نے دو شمالی کوریائی جنگی قیدی جنوبی کوریا کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق جنگی قیدیوں سے متعلق معاملات روسی وزارت دفاع اور خصوصی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
کریملن ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صدر پوتن جمعرات کو روسی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے ساتھ آپریشنل اجلاس کریں گے، جبکہ ان کے شیڈول میں متعدد بند کمرہ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments