امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی بیجنگ کو اس حوالے سے کوئی پیشکش کی گئی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ وضاحت امریکا کے چین میں سفیر ڈیوڈ پرڈیو کے ایک حالیہ انٹرویو کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق چین کو امریکی اسلحہ فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہے، اس لیے نہ اس حوالے سے کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی پیشکش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز کے انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر چین کے تحفظات کے جواب میں چینی صدر کو امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش کی تھی۔
ڈیوڈ پرڈیو کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرتا ہے اور انہوں نے ایک موقع پر شی جن پنگ سے بھی پوچھا تھا کہ کیا چین امریکی اسلحہ خریدنا چاہے گا۔ پرڈیو نے یہ بھی کہا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں میں یہ موضوع زیر بحث آتا رہا ہے۔
تاہم پرڈیو نے مبینہ پیشکش کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمانوں نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ٹرمپ نے حالیہ ملاقات میں شی جن پنگ کو ایسی کوئی پیشکش کی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شی جن پنگ نے اپنے دورۂ امریکا کے دوران ایک بار پھر ٹرمپ پر تائیوان کے معاملے میں احتیاط برتنے پر زور دیا اور واشنگٹن سے تائیوان کی آزادی کی واضح مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments