ہماری پوری کوشش تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو: محسن نقوی

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ہماری پوری کوشش تھی کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہوئے۔

 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے پر صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور مذاکرات کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم صوبے میں ایپکس کمیٹی کے قیام کے لیے بھی انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اُنہوں نے کہا کہ بعض معاملات کی وضاحت کرنا ضروری ہے، رواں سال فروری میں پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، تاہم خیبرپختونخوا میں ایپکس کمیٹی بنوانے کے لیے شدید مشکلات پیش آئیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے معاملے پر تعاون کرے، اس مقصد کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی گئی، کیونکہ حکومت کی خواہش تھی کہ معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہوں۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے، سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوتے رہے، لیکن ان واقعات کے اگلے روز وزیراعلیٰ کی جانب سے فوج کے خلاف باتیں کی جاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف بات کی تو انہیں بتایا کہ ان کے مؤقف اور صوبائی حکومت کی باتوں میں فرق ہے، دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات کے دوران بھی ان کی پہلی ترجیح یہی مسئلہ رہا اور اس حوالے سے بات چیت کی گئی۔

وزیر داخلہ نے  کہا کہ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے، وہ سہیل آفریدی سے بھی کئی مرتبہ ذاتی طور پر ملاقات کر چکے ہیں۔

داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے آخری لمحے تک کوشش کی کہ ایمرجنسی نافذ نہ ہو اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر مرتبہ آگے بڑھ کر مذاکرات کیے اور وہ خود مذاکراتی عمل سے اٹھ کر نہیں گئے،سچ کو سامنے رکھنا چاہیے اور معاملات کو حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگنا چاہیے، سیاسی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور کسی جماعت کو دہشت گردی سے جوڑنے سے پہلے حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ متعلقہ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر جائزہ لے کہ کہاں اور کیا غلطی ہوئی، اس معاملے پر پریس ریلیز جاری کر دی گئی ہے، تاہم ان کے بقول متعلقہ فریقین کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت نہیں کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...