خیبر پختونخوا کی ترقی امن کے قیام سے جڑی ہے: گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور: (دنیا نیوز) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن نہیں ہوگا تو ترقی نہیں ہوگی، صوبے کی ترقی امن کے قیام سے جڑی ہے۔

فیصل کریم کنڈی کی  جماعت اسلامی کے مرکز پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم سے ملاقات کی۔

ملاقات میں امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، امیر وسطی اضلاع عبدالواسع، امیر جماعت اسلامی ہزارہ ڈویژن عبدالرزاق عباسی، سابق رکن قومی اسمبلی صابر حسین اعوان اور دیگر جماعتی قائدین بھی موجود تھے۔

اِسی طرح ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، گورننس کی بہتری، ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، اس موقع پر خیبرپختونخوا کے مسائل کے حل، صوبے کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے کو ترقی دے کر نہ صرف معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع کی زمینوں کو آباد کرنے سے صوبے کی زرعی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے جب کہ زرعی پیداوار میں اضافے سے معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور صوبے میں معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں اور پولیس شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے صوبے میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے کا بھی ذکر کیا۔

ملاقات میں صوبے کے مالی اور آئینی حقوق سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے جب کہ اُنہوں نے کہا کہ بجلی کے خالص منافع، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) اور وفاق سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کی حمایت بھی درکار ہے، صوبے کے حقوق کے حصول اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون اہمیت رکھتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...