برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا

برازیلیا: (ویب ڈیسک) برازیل کے نائب صدر جیرالڈو آلکمین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کو مسترد کر دیا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر نےجاری بیان میں کہا کہ کسی دوسرے ملک کی سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، یہ ایک بنیادی اصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ اور قانونی تحفظات کے حوالے سے برازیل دنیا کے لئے ایک مثال ہے اور جمہوریت میں فیصلہ عوام کرتے ہیں کہ کون انتخاب جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ برازیل کے صدارتی انتخابات بظاہر ایک اور دھاندلی زدہ انتخاب تھے۔

انہوں نے ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کے فیصلے کو بھی غیر معمولی قرار دیا تھا۔مقامی میڈیا نے برازیل کی سپریم الیکٹورل کورٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو ووٹنگ کے مقررہ وقت شام 5 بجے کے بعد تقریباً 34 ہزار ووٹ ڈالے گئے، جو مجموعی ووٹوں کا محض 0.03 فیصد تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی کامیابی ان ووٹوں پر منحصر نہیں تھی، کیونکہ انہوں نے لبرل پارٹی کے امیدوار فلاویو بولسونارو کو تقریباً 44 لاکھ ووٹوں کی واضح برتری سے شکست دی، لولا دا سلوا نے مجموعی ووٹوں کا 51.79 فیصد حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں کے باعث بعض ووٹرز کو پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، جس کے پیش نظر برازیل کی سپریم فیڈرل کورٹ نے اتوار کو ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے اسے شام 7 بجے تک جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، تاہم مقررہ وقت پر بند ہونے والے پولنگ سٹیشن دوبارہ نہیں کھولے گئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...