بچوں کی ابتدائی پرورش مستقبل کی معیشت کا تعین کرے گی: احسن اقبال

میڈرڈ: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اختراع اور تخلیق کے دور میں بچوں کی ابتدائی پرورش مستقبل کی معیشت کا تعین کرے گی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور حکومت سپین کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ عالمی کیئر گیور فورم میں شرکت کی۔

کیئر گیور فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ابتدائی بچپن اور کیئر گیونگ میں سرمایہ کاری کے نتائج پانچ سال میں نظر نہیں آتے، اسی لیے حکومتیں اکثر اسے نظر انداز کر دیتی ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ابتدائی عمر میں مناسب نگہداشت نہ ملے تو انسانی سرمائے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے، کمزور غذائیت اور ناقص نگہداشت بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو مستقل طور پر متاثر کرتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ ہماری گلوبل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ داری ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے ملک کی ایک تہائی آبادی کو زیر آب کر دیا اور پائیدار ترقیاتی اہداف میں آٹھ سال کی پیش رفت ختم ہو گئی، آفات کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور خواتین پر پڑتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ موسمیاتی جھٹکوں کو بچوں کی پوری نسل ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان نے ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے قومی حکمت عملی اختیار کر لی ہے جو اُڑان پاکستان فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ہم نے ہر بچے کو آٹھ سال کی عمر تک صحت، غذائیت، تعلیم اور تحفظ کی مربوط سہولیات فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ کو ایک نظام کے تحت جوڑا جا رہا ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ اور غریب اضلاع میں بچوں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان نے غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج میں کیئر گیونگ اور کھیل کو لازمی قرار دیا ہے، والدین کو بچوں سے بات چیت، کھیل اور جذباتی تعلق کی تربیت دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ نوجوان امن و ترقیاتی کور کے تحت ہزاروں نوجوان رضاکار کمیونٹی سطح پر والدین میں بچوں کی بہتر نگہداشت، پولیو ویکسی نیشن اور صاف ماحول سے متعلق آگاہی پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اتنا بڑا چیلنج ہے کہ کوئی بھی حکومت اکیلے اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر سکتی، بچوں کی بہتر پرورش کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں شعور اجاگر ہو اور یہ موضوع قومی ایجنڈے پر برقرار رہے۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں