آج تک ہم طے نہیں کر پائے ملک کو کس طرح چلائیں گے: ملک احمد خان

لاہور: (دنیا نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ایسا ہی چلنے کے جو اسباب ہیں اس کے ہم سب ذمہ دار ہیں، اس میں ہم سب نے حصہ ڈالا ہے، 70، 80 سالوں میں ہم یہ طے نہیں کر پائے کے ہم اس کو کس طرح چلائیں گے۔

آرٹس کونسل الحمرا میں جاری تھنک فیسٹ کے دوسرے روز اہم سیشن ”کیا ایسے ہی چلے گا؟“ میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے شرکت کی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم کہاں فیل ہوگئے ہیں کہ آج یہ نا امیدی ہمارے آگے سوال بن کر کھڑی ہے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ یہ ملک انتخابات کے نتیجے میں دو لخت ہوا، اس ملک میں انتخابات کے نتیجے میں مارشل لا لگا، جب اس ملک میں کبھی الیکشن کے نتائج تسلیم نہیں کیے گئے، اسی وجہ سے یہاں پر پولیٹیکل سپیس کم ہوئی ہے۔

سپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ ہم کہتے رہے ہیں اس ملک کے وزیراعظم کو نشانہ نہ بنائیں، پچھلے پانچ سال اپوزیشن میں بہت ٹف ٹائم رہا، جمہوریت صرف جیتنے کا نام نہیں ہے، جمہوریت انارکی کا نام نہیں ہے، جمہوریت ہار کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔

انہوں نے کہا کہ خرابی سیاستدان میں ہے ہمیں اسے ٹھیک کرنا ہوگا، پارلیمنٹ مسائل کے حل کی جگہ ہے لیکن وہاں کتابیں پھاڑی جاتی ہیں، وہاں شور شرابہ، ہنگامہ آرائی، گھیراؤ ہوتا ہے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کر لیا گیا ہے، ہم سیاستدانوں کو خود کو ٹھیک کرنا ہوگا، سپریم کورٹ نے ہمیشہ غلط کردار ادا کیا، سپریم کورٹ خود آئین کو روندتی رہی۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ سب ایسا اس لیے چل رہا ہے ملک میں سپریم کورٹ نے آئین کو روندا، 20، 25 جو سیاسی جماعتوں کے لائرز تھے ان کو کسی بھی کورٹ میں اٹھا کر جج کر لگا دیا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کو بہتر کرنا ہے تو ماضی کو بھی دیکھنا ہوگا، میں تاریخ کا طالب علم ہوں، پاکستان کے تمام انتخاںات میں کبھی کسی کو ہار کو تسلیم کرتے نہیں دیکھا، کیا سیاسی لوگ ہار تسلیم نہیں کرسکتے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ جمہوریت ہار کو تسلیم کرنے کا نام ہے، جمہوریت اختلاف رائے کو تسلیم کرنے کا نام ہے، سیاسی لوگوں میں لہجے کی درستگی ضروری ہے، میں آج تک اسمبلی میں کسی ایک وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر نہیں سن سکتا، شورشرابے میں تمام تقاریر دب جاتی ہیں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسمبلیاں سیاسی لوگوں کی ہوسٹیج ہوگئی ہیں، پارلیمان پچھلی تین دہائیوں سے ہوسٹیج ہے، پارلیمان کو آزاد کرنے تک بہتری نہیں آسکتی ملک میں ہر مسئلے کا حل پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو با اختیار بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک اختیار تھا، میں نے اسمبلی میں بیٹھتے ساتھ رولز آف بزنس کو تبدیل کیا، میں نوجوانوں سے پُرامید ہوں، نوجوانوں کے خوابوں کو برا نہیں کہا جا سکتا ، میں نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر چاہتا ہوں۔

ملک احمد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے ترمیم کرنا اور سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو ترمیم کرنے سے روک دے، یہ طے کرنا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ ماضی میں کیا کرتی رہی، یہ طے کرنا ضروری ہے کہ افواج نے ماضی میں کیا کچھ کیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ 73 کے آئین پر آج عمل کرلیں گے تو مسائل حل ہو جائیں گے، کل عمل کرلیں جب بھی عمل کرلیں آئین پر عمل ہی ضروری ہے۔

صوبہ پنجاب میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، والدین ان بچوں کو سکول بھیجنا افورڈ نہیں کرتے، گورنمنٹ سکول کے ایک بچے پر 87 ڈالر یعنی 25 ہزار خرچ ہو رہے ہیں، میں پرائیویٹ تعلیم کے خلاف نہیں ہوں، 4 صوبائی حکومتیں ہیں سب کی کوشش ہے تعلیم کا بجٹ بڑھائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں