پاکستان اور روس کا تجارت، توانائی، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کا عزم

ماسکو: (شاہد گھمن) پاکستان اور روس نے تجارت، توانائی، زراعت، تعلیم، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مثبت سیاسی ماحول کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔

یہ اتفاقِ رائے "Pakistan–Russia: Strengthening Trade, Education & Energy Collaboration" کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطحی ویبینار میں سامنے آیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں، کاروباری رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی اور رابطوں کے شعبے میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہتر لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور اقتصادی روابط کے ذریعے دونوں ممالک کی باہمی تجارت کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ روس پاکستان کیلئے توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کا ایک اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری روابط کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

انہوں نے طلبہ کے تبادلوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویزا سہولتوں میں بہتری سے سیاحت، تجارت اور اقتصادی تعاون کو نئی رفتار مل سکتی ہے، انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستانی سفارت خانہ روسی اداروں، جامعات اور کاروباری برادری کے ساتھ مل کر دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیتا رہے گا۔

ویبینار میں روسی وزارت خارجہ کے سیکنڈ ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے نائب ڈائریکٹر بورس برمیستروف اور روس کے نائب وزیر صنعت و تجارت الیکسی گروزدیف نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے تجارت، صنعتی تعاون، ادائیگی کے نظام، لاجسٹکس اور کاروباری روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ قاضی خلیل اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے تعلقات کا مرکزی ستون بن سکتا ہے، انہوں نے روس کی ممکنہ شمولیت کے ساتھ علاقائی توانائی منصوبوں اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔

کاروباری تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے دیمتری انتونوف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان سمندری تجارت، چیمبرز آف کامرس، زراعت، لاجسٹکس اور یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

تعلیم کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسماء نوید نے کہا کہ روسی زبان دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے، انہوں نے روسی زبان کی تعلیم، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔

روسی اکیڈمی آف ایجوکیشن کی ڈاکٹر سویتلانا مینیوروا نے کہا کہ پاکستان اور روس کو تدریسی تحقیق، اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور مشترکہ سائنسی منصوبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔

ویبینار کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے روسی جغرافیائی سیاسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تعلقات کو عوامی سفارت کاری، جامعات، تحقیقی اداروں، کاروباری برادری اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، تعلیم اور زبان دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری کی بنیاد ہیں۔

ویبینار کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان موجود سیاسی اعتماد کو تجارت، توانائی، تعلیم، سائنس، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں