اسلام آباد کو ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کیلئے حدود و قیود کے تعین پر کام شروع
اسلام آباد: (مدثر علی رانا) اسلام آباد کو ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی صورت میں اس کی حدود و قیود کا تعین آئینی، انتظامی اور جغرافیائی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
ذرائع وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق ابتدائی طور پر موجودہ وفاقی دارالحکومت علاقہ ہی کو نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی حدود قرار دیے جانے کا امکان ہے، دوسرے مرحلے میں اسلام آباد سے ملحقہ بعض علاقوں کو بھی نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے صوبوں کی موجودہ حدود میں تبدیلی اور باقاعدہ حد بندی کرنا ضروری ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کی قرارداد کے ذریعے منظوری کے بغیر صوبائی علاقوں کو نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹ میں شامل نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ نئے یونٹ کی حدود اور اختیارات کا حتمی فیصلہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔
دستاویز کے مطابق اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے وفاق سے اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارشات تیار کرلی گئی ہیں، جس کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں گے اور اسلام آباد میں نمائندہ حکومت قائم کی جائے گی۔
پلاننگ کمیشن کی دستاویز کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹ کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے، جبکہ اسلام آباد کے الگ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بننے کی صورت میں امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے اختیارات وفاقی حکومت کے پاس برقرار رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments