سپریم کورٹ میں قومی عدالتی فلاح و بہبود کانفرنس، ججز میں اعزازات تقسیم
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے زیر اہتمام قومی عدالتی فلاح و بہبود کانفرنس ”اصلاحات سے اعتراف تک: ایک مؤثر ضلعی عدلیہ کی تشکیل“ کا انعقاد ہوا۔
کانفرنس کا مرکزی محور عدالتی فلاح و بہبود، ادارہ جاتی معاونت اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا اعتراف تھا۔ کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے معزز ججز، تمام صوبائی ہائی کورٹس اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سمیت ملک بھر، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ضلعی عدلیہ کے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز نے شرکت کی۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ضلعی عدلیہ نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی اور شہریوں کے لیے انصاف کا پہلا باضابطہ فورم ہے، نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد بڑی حد تک ضلعی عدلیہ کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ مؤثر نظامِ انصاف کے لیے صرف فعال عدالتیں نہیں بلکہ پیشہ ورانہ طور پر بااختیار اور ادارہ جاتی معاونت کے حامل ججز بھی ضروری ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دور دراز اور کم سہولیات والے اضلاع کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی دوروں کے دوران ججز، وکلاء، سائلین اور عدالتی صارفین کی عملی ضروریات اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔
ضلعی عدلیہ میں کام کے ماحول، پیشہ ورانہ وسائل، عدالتی انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی گئیں، عدالتی کمپلیکسز کی سولرائزیشن، ای لائبریریز، انٹرنیٹ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔
پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور اسلام آباد میں متعلقہ اصلاحاتی منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے گئے، بلوچستان کے 18 اضلاع میں اصلاحاتی منصوبے مکمل کر لیے گئے جبکہ باقی اضلاع میں کام جاری ہے، بلوچستان کے باقی اضلاع میں دشوار گزار جغرافیہ اور امن و امان کی صورتحال کے باعث انتظامی مشکلات درپیش ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سال 2026-27 کو جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو کے لیے مختص کیا گیا ہے، خواتین سائلین کو ایک ہی چھت تلے ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں خواتین کے وقار، رازداری، تحفظ اور آسان رسائی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے معیاری ڈیزائنز کے لیے انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان کے تعاون سے ملک گیر مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ٹائم باؤنڈ مقدمات کے فیصلوں اور زیرِ التوا مقدمات میں کمی پر ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا، ستمبر 2025 سے جولائی 2026 تک 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد ٹائم باؤنڈ مقدمات کے فیصلے کیے گئے جبکہ ماڈل کریمنل اور سول کورٹس نے اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔
قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے مطابق ضلعی عدلیہ کی کارکردگی مسلسل ادارہ جاتی کوشش اور انصاف کی بروقت فراہمی کے عزم کی عکاس ہے۔
تمام ہائی کورٹس اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں عدالتی فلاح و بہبود کے اقدامات سے آگاہ کیا، کانفرنس میں ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹلائزیشن، احتساب، شفافیت اور عدالتی انتظام میں بہتری کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
جوڈیشل افسران اور عملے کی فلاح، پیشہ ورانہ معاونت اور سروس مراعات بھی کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل رہیں۔
مقررین نے کہا کہ عدالتی اصلاحات میں انصاف فراہم کرنے والے ججز کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ وقار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، انصاف کی فراہمی میں پائیدار بہتری کے لیے قابلِ پیمائش کارکردگی کے ساتھ ججز کی فلاح و بہبود بھی ناگزیر ہے۔
کانفرنس میں اصلاحات کو کارکردگی کے اعتراف سے جوڑتے ہوئے نمایاں کارکردگی کے حامل ججز کی خدمات کو سراہا گیا۔
نمایاں کارکردگی کے حامل جوڈیشل افسران کو ”کمنڈیشن فار جوڈیشل ایکسیلنس“ سے نوازا گیا، جوڈیشل افسران کو بروقت، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی خدمات پر اعزازات دیے گئے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ضلعی عدلیہ عدالتی اصلاحاتی ایجنڈے کی مرکزی ترجیح رہے گی، عدالتی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ معاونت اور ٹائم باؤنڈ فیصلوں پر مسلسل توجہ دی جائے گی، بہتر عدالتی انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی سہولت اصلاحاتی ایجنڈے کی ترجیحات ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments