پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت اور خاندانی سیاست کی مزید گنجائش نہیں: خالد مقبول صدیقی
کراچی: (دنیا نیوز) چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم ) ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت اور خاندانی سیاست کی مزید گنجائش نہیں، عوام کو حصہ لینا چاہیے۔
شہرِ قائد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے وسائل عام پاکستانیوں تک پہنچانے اور اقتدار کو گلی محلوں تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان سے خاندانی حکومتوں اور موروثی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے، جاگیردارانہ جمہوریت کی اب مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ایسا ایوان جہاں مزدوروں کی نمائندگی سرمایہ دار کرے، وہ جمہوریت نہیں ہو سکتی، میری اور آپ کی نمائندگی کا حق صرف مڈل کلاس کے نمائندوں کو حاصل ہونا چاہیے۔
ڈاکتر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب ظالموں اور جابروں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کا وقت آچکا ہے، انہوں نے ضلع شرقی کے کارکنان، ماؤں اور بہنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں سلام اور شاباش بھی دی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے جعلی اور جاگیردارانہ حکومت کے اندر دراڑ ڈال دی ہے، اسی عوامی تحریک نے 45 سال پہلے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ ہم آبادی کے تناسب سے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیتی ہے، نئے صوبے بنائے جائیں اور یہ طے کیا جائے کہ ملک میں کہاں کہاں نئے صوبے ہونے چاہئیں۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان آج ایوان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم اب صوبوں سے متعلق فیصلہ سڑکوں سے کروائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے حصے کا پاکستان اپنے ساتھ لائے ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ اختیار اور اقتدار مہاجروں کا حق ہوتا ہے، 60 فیصد زرعی زمین ان ہندوؤں کی تھی جو یہاں سے ہجرت کرکے گئے تھے، جبکہ ہندوستان میں ہماری زمین ان ہندوؤں کو دے دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments