ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب پر اتفاق، اسرائیل کی ہر جانشین کو مارنے کی دھمکی
تہران: (دنیا نیوز) ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان نئے لیڈر پر متفق ہوگئی، اسرائیل نے خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
رکن مجلس خبرگان محمد میر باقر نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے زیادہ تر ارکان متفق ہو چکے ہیں تاہم عمل سے متعلق کچھ رکاوٹیں ابھی باقی ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے اکثریتی ارکان مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے پر متفق ہیں، اراکین کا اتفاق رائے عوام کی مرضی اور شہید سپریم لیڈر کے طرز عمل کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ اراکین کی مختلف آراء ہیں، لیکن اختلاف رائے مخلصانہ ہے، کوئی سیاسی مقاصد نہیں، سپریم لیڈر کے باضابطہ اعلان میں تاخیر سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز اسمبلی کے ایک اور سینئر رکن نے بتایا تھا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ارکان ایک دن کے اندر اجلاس کریں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ارکان کے درمیان اس بات پر معمولی اختلاف موجود ہے کہ حتمی فیصلہ باقاعدہ بالمشافہ اجلاس کے بعد کیا جائے یا موجودہ حالات میں اس رسمی عمل کے بغیر ہی اعلان کر دیا جائے۔
اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن آیت اللہ محسن حیدری نے کہا کہ موجودہ حالات میں حتمی ووٹنگ کے لیے اسمبلی کا براہ راست اجلاس ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک امیدوار کا انتخاب کر لیا گیا ہے جو مرحوم سپریم لیڈر کی اس ہدایت کے مطابق ہے کہ ایران کا اعلیٰ رہنما ایسا ہونا چاہیے جسے دشمن ناپسند کرے نہ کہ اس کی تعریف کرے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانا جاری رکھے گی،
اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست اسرائیل نہ صرف ہر جانشین بلکہ ہر اس شخص کا پیچھا کرتی رہے گی جو جانشین مقرر کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ ہم ان تمام لوگوں کو خبردار کرتے ہیں جو جانشین کے انتخاب کے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ہم آپ کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔