آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی دنیا کو سنگین غذائی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے، برطانیہ
لندن: (دنیا نیوز) برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی دنیا کو سنگین غذائی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔
برطانوی حکومت کے مطابق اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے، عالمی خوراک پروگرام نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
برطانوی وزارتِ خارجہ اس صورتحال کے پیش نظر لندن میں بڑے امدادی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہی ہے، جہاں ترقیاتی پالیسی کے نئے لائحہ عمل اور خوراک کے بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا، خاص طور پر اُن ممالک کیلئے جو پہلے ہی معاشی اور انسانی بحران کے دہانے پر ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا دنیا ایک عالمی غذائی بحران کی طرف خاموشی سے بڑھ رہی ہے، اور ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ ایران کی جانب سے ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو یرغمال بنانے کے باعث کروڑوں لوگ بھوک کا شکار ہو جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو مشترکہ اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔