سوڈان کے بازار پر ڈرون حملہ، کم از کم 11 شہری جاں بحق، درجنوں زخمی

خرطوم: (دنیا نیوز) مرکزی سوڈان کے ایک بازار پر ڈرون حملے میں کم از کم 11 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

سوڈانی انسانی حقوق گروپ کے مطابق فضائی حملوں میں اضافے نے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کے متاثرین کی تعداد مزید بڑھا دی ہے۔

اس حملے میں شمالی کردفان ریاست کے شہر ابو زعیمہ کے مرکزی بازار کو نشانہ بنایا گیا، یہ شہر نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے زیرِ کنٹرول ہے، یہ معلومات ایمرجنسی لائرز نامی گروپ نے دی ہیں، جو اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور RSF کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے رہا ہے۔

ایمرجنسی لائرز گروپ نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ کس فریق نے کیا۔ ابھی تک کسی بھی فریق نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اس سے 24 گھنٹے پہلے ہی قریبی دیہات اور ایک شہری گاڑی پر بھی اسی نوعیت کے ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

حملے کی مذمت کرتے ہوئے گروپ نے کہا کہ شہریوں، دیہاتیوں اور عوامی نقل و حمل کو بار بار نشانہ بنانا انسانی جانوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں کو معمول کا واقعہ نہیں سمجھا جانا چاہئے اور اس قسم کے حملوں کے خاتمے اور ذمہ دار افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا۔

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق دو عینی شاہدین نے بتایا کہ اسی روز بعد میں ایک اور ڈرون نے العبید شہر میں ایک ایندھن کے سٹیشن کو نشانہ بنایا، العبید شمالی کردفان کا دارالحکومت ہے اور آر ایس ایف نے کئی ماہ سے اس کا جزوی محاصرہ کر رکھا ہے۔

ایمرجنسی لائرز اور ایک مقامی رہنما کے مطابق گزشتہ ہفتے مغربی اور شمالی کردفان میں ہونے والے دو الگ الگ ڈرون حملوں میں تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے، سوڈان کی جاری جنگ میں ڈرون حملے تیزی سے عام ہوتے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے مئی میں بتایا تھا کہ جنوری سے اپریل کے درمیان ملک بھر میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 880 شہری ہلاک ہوئے۔

دارفور کے مغربی علاقے میں واقع فوج کے آخری بڑے مضبوط گڑھ الفاشر پر آر ایس ایف کے قبضے کے بعد سے کردفان اور ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع بلیو نائل ریاست میں لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کے بعد 3 لاکھ سے زائد افراد محاذی علاقوں، بشمول الفاشر اور کردفان و بلیو نائل کے بعض حصوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

سوڈان کی یہ جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے، اس دوران دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا بے گھری اور بھوک کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں