اسلام آباد امن مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کو اسرائیلی حملے کا خطرہ تھا: امریکی اخبار

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کے دورے کے دوران اسرائیل، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مبینہ منصوبے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو ہدف بنانے کا ارادہ شامل تھا۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ممکنہ اسرائیلی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر امریکی انتظامیہ نے خطے کے بعض ممالک کے ذریعے ایران کو پیشگی آگاہ بھی کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اپریل میں اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی حکام نے امریکی حکام سے پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ذریعے اس بات کی ضمانت طلب کی تھی کہ ایرانی وفد کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایرانی وفد کے طیارے کو ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران واپسی تک حفاظتی حصار میں رکھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واپسی کے سفر کے دوران ایرانی حکام کو اسرائیلی طیاروں کے عراق سے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے سے متعلق انٹیلیجنس موصول ہوئی، جس کے بعد یہ اطلاع فوری طور پر ایرانی وفد کے طیارے تک پہنچائی گئی اور طیارے کو احتیاطی تدبیر کے طور پر مشہد ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی تصدیق باقر قالیباف کے سینئر معاون محمد مرانڈی نے بھی کی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں