مراکش سے ہزاروں افراد سپین کی سرحد عبور کر گئے، 9 ہلاک
میڈرڈ، رباط: (ویب ڈیسک) سپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب آ گیا، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے، بہتر مستقبل کی تلاش میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔
شمالی افریقہ میں سپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مراکش سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں اچانک اضافے کے بعد مقامی حکام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی اور سماجی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
سیوٹا کی حکومت کے مطابق 10 روز کے دوران ایک ہزار 500 سے 2 ہزار کے درمیان مہاجرین مراکش سے سرحد عبور کر کے علاقے میں داخل ہوئے، جبکہ صرف ایک ہی روز میں مزید سیکڑوں افراد سیوٹا پہنچ گئے، صورتحال کے پیش نظر سیوٹا کے صدر جیسس ویواس نے ہسپانوی حکومت سے فوج تعینات کر کے سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہسپانوی وزارت داخلہ نے قومی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت امیگریشن بحران کو قومی ایمرجنسی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اضافی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، بعد ازاں وزارت نے سرحدی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے 60 فوجیوں کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مہاجرین ربڑ کی کشتیوں اور تیراکی کے ذریعے مراکش سے سیوٹا پہنچے، جبکہ بعض افراد سرحدی باڑ پھلانگ کر ہسپانوی علاقے میں داخل ہوئے، داخل ہونے والے متعدد افراد ویوا ایسپانا کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن زکریا زروقی نے کہا کہ موجودہ صورتحال مئی 2021 کے بحران سے مشابہ ہے، جب چند ہی دنوں میں تقریباً 10 ہزار مراکشی اور افریقی نوجوان سیوٹا میں داخل ہو گئے تھے، صورتحال اب بھی قابو سے باہر ہے اور مراکش کے سرحدی شہر فنیدیق میں مزید افراد یورپ پہنچنے کی امید میں جمع ہو رہے ہیں۔
سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں واقع سپین کے 2 خودمختار علاقے ہیں، جو یورپی یونین اور افریقہ کے درمیان واحد زمینی سرحد کی حیثیت رکھتے ہیں، بہتر زندگی اور یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد اکثر انہی راستوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments