ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا
واشنگٹن: (دنیا نیوز) ایران کے ساتھ 5 ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکی فوج اپنے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر چکی ہے، جس سے مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے لیے امریکی عسکری تیاریوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے جدید میزائل تقریباَ یا مکمل طور پر استعمال کر لیے ہیں، ان جدید میزائلوں کی قیمت فی میزائل ایک ملین ڈالر سے زائد ہے اور یہ محفوظ فاصلے سے انتہائی درست حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں ان میزائلوں کی کمی کے باعث پائلٹس کے ذریعے کیے جانے والے فضائی حملوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والے صدر ٹرمپ نے توقع ظاہر کی تھی کہ یہ تنازع مختصر ہوگا، تاہم جنگ طول پکڑنے کے باعث امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے امریکا کی روس اور چین جیسے حریف ممالک کے خلاف دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسلحے کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن طویل جنگ کی صورت میں موجودہ رفتار بھی ضرورت پوری کرنے کیلئے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments