افغانستان میں 2 کروڑ 90 لاکھ افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہیں: دی ٹیلیگراف
لندن: (دنیا نیوز) برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف نے افغانستان کی زمینی حقیقت اور طالبان رجیم کے طرزِ حکمرانی کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم افغانستان میں فتح کا جشن منا رہا ہے جبکہ عوام بھوک اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، طالبان رجیم کے 5 سالہ دور میں غربت اور بے روزگاری سے مجبور افغان بہتر مستقبل کی تلاش میں خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روزگار کی تلاش میں ایران جانے والے افغان شہری شدید گرمی اور پیاس کے باعث راستے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، صحرا میں افغان شہریوں کی ہلاکتیں طالبان رجیم کے دور میں بڑھتی غربت اور بے روزگاری کی سنگین عکاسی کرتی ہیں۔
دی ٹیلی گراف نے لکھا کہ افغان خاندان کئی کئی دن صرف خشک روٹی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد 34 لاکھ افغان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بتایا گیا کہ خواتین کو بازاروں میں چہرہ نہ ڈھانپنے پر طالبان اہلکاروں کے تشدد کا سامنا ہے، چیک پوسٹوں، اخلاقی پولیس اور خواتین کے لاپتا ہونے کے خوف نے افغان معاشرے کو جکڑ رکھا ہے، طالبان حکام نے صحافیوں کو 15 اگست کی کوریج صرف جشن تک محدود رکھنے اور تنقیدی مواد نشر نہ کرنے کی ہدایت دی۔
دی ٹیلی گراف نے لکھا کہ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افغان انسانی امداد کے محتاج ہیں، یو این ڈی پی کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افغان اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
برطانوی جریدے کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانوں سے غربت اور بھوک کی خبروں پر یقین نہ کرنے کو کہا جبکہ ہبت اللہ اخوندزادہ خود کبھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور روزگار کی شدید پابندیوں کا سامنا ہے، طالبان رجیم کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں بدستور برقرارہیں، یونیسکو کے مطابق 24 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں ، 6 لاکھ خواتین کے روزگار سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق افغانستان میں لڑکیوں کی زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے، حالات مزید بگڑنے پر لڑکیاں بقا کے لیے طالبان سے شادی پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments