یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں تعینات کیے جانے والے ایسے کسی بھی غیر ملکی فوجی دستے کو، جو خصوصی فوجی آپریشن اور پائیدار امن تصفیے کی کوششوں میں رکاوٹ بنے، روس اپنا جائز فوجی ہدف تصور کرے گا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ماسکو بارہا واضح کر چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوجی دستے کی تعیناتی، جو روس کے خصوصی فوجی آپریشن اور پائیدار تصفیے کے حصول میں رکاوٹ بنے، روس کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ ایسے غیر ملکی فوجی دستے روس کے لیے جائز فوجی اہداف بن جائیں گے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی مزید کشیدگی کی ذمہ داری ان مغربی سیاست دانوں پر عائد ہوگی جنہوں نے تنازع کو مزید بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ماریہ زخارووا نے یوکرین سے متصل یورپی یونین کے ممالک میں اکتوبر اور نومبر کے دوران "کولیشن آف دی ولنگ" کی جانب سے اعلان کردہ فوجی مشقوں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ فوجی مشقیں درحقیقت یورپی نیٹو رکن ممالک کو یوکرین تنازع میں مزید گہرائی تک شامل کرنے کی جانب ایک اور قدم ہیں۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ممالک وقتاً فوقتاً اس تنازع کے حل کی بات کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر مذاکرات کی میز پر اپنے لیے جگہ کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments