ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت
ولادیووستوک: (شاہد گھمن) روس کے مشرق بعید کے شہر ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم آج یکم ستمبر سے باضابطہ طور پر شروع ہوگیا، چار روزہ فورم 4 ستمبر تک روسکی جزیرے پر واقع فارایسٹرن فیڈرل یونیورسٹی کے کیمپس میں جاری رہے گا، جہاں حکومتی رہنما، کاروباری شخصیات، سرمایہ کار، ماہرین اور بین الاقوامی وفود روس کے مشرق بعید کی ترقی، سرمایہ کاری اور ایشیا پیسیفک خطے کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
روسکونگریس فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال فورم کا مرکزی موضوع "دورِ مشرق — عوام کی فلاح کے لیے ترقی" رکھا گیا ہے، تازہ ترین سرکاری معلومات کے مطابق دنیا کے 80 ممالک کے نمائندوں نے فورم میں شرکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ پانچ ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع ہے۔
فورم کے آغاز کے ساتھ ہی کاروباری اجلاسوں، مباحثوں اور مختلف شعبوں سے متعلق خصوصی سیشنز کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے، فورم میں تجارت، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، توانائی، نقل و حمل، مصنوعی ذہانت، انسانی وسائل اور روس کے مشرق بعید کی سماجی و اقتصادی ترقی کے موضوعات کو نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔
روسی صدر کے مشیر اور ایسٹرن اکنامک فورم کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری انتون کوبیاکوف نے کہا ہے کہ 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت مختلف اقتصادی نظام اور ترقیاتی ماڈلز رکھنے والے ممالک کے درمیان کھلے اور پیشہ ورانہ مکالمے کے لیے اہم موقع فراہم کرتی ہے، ان کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس فورم کے بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
فورم کے پہلے روز "سٹریٹ آف دی فار ایسٹ" نمائش بھی باضابطہ طور پر کھول دی گئی، نمائش میں روس کے مشرق بعید کے تمام 11 علاقوں کے علاوہ وفاقی وزارتوں اور مختلف اداروں نے اپنے پویلین قائم کیے ہیں، جہاں خطے کی اقتصادی، صنعتی، ثقافتی اور سیاحتی صلاحیتوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔
روس کے نائب وزیراعظم اور مشرق بعید میں صدر کے نمائندے یوری تروتنیف نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ 2015 میں پہلی "سٹریٹ آف دی فار ایسٹ" نمائش کے بعد سے خطے میں 1,118 نئے صنعتی و کاروباری ادارے قائم کیے گئے، 6.8 ٹریلین روبل کی سرمایہ کاری ہوئی اور تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کی گئیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فورم کے شرکاء، منتظمین اور مہمانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایسٹرن اکنامک فورم گزشتہ برسوں میں کاروباری حلقوں، حکومتی اداروں اور ماہرین کے درمیان کھلے اور تعمیری مکالمے کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے، صدر پوتن کے مطابق یہ فورم روس کے مشرق بعید اور پورے ملک کی سٹریٹجک ترقی پر تبادلہ خیال کے ساتھ ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک کے ساتھ لاجسٹکس، صنعت، توانائی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر پوتن نے امید ظاہر کی کہ رواں سال فورم کے دوران ایسے مؤثر فیصلے اور تجاویز سامنے آئیں گی جن سے کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں، شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے اور روس کے مشرق بعید کے شہروں اور دیہی علاقوں کو مزید جدید اور آرام دہ بنایا جا سکے، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ فورم میں سامنے آنے والے خیالات عملی اور امید افزا منصوبوں کی شکل اختیار کریں گے۔
روسی حکام کے مطابق مشرق بعید کی ترقی کو قومی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے اور خطے میں تین ہزار سے زائد سرمایہ کاری منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 13.5 ٹریلین روبل ہے، جبکہ 6 ٹریلین روبل سے زیادہ سرمایہ پہلے ہی لگایا جا چکا ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ولادی ووستوک پہنچیں گے اور ایسٹرن اکنامک فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے اہم خطاب کریں گے، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق صدر پوتن کا خطاب فورم کی اہم ترین سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہوگا اور موجودہ بین الاقوامی اور اقتصادی ایجنڈے کی عکاسی کرے گا۔
گزشتہ سال 2025 کے ایسٹرن اکنامک فورم میں آٹھ ہزار سے زائد شرکاء اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی تھی، جن میں 2,600 سے زیادہ کاروباری نمائندے شامل تھے، فورم میں 75 ممالک اور علاقوں کی نمائندگی ہوئی اور 358 معاہدے چھ ٹریلین روبل سے زائد مالیت کے ساتھ طے پائے تھے۔
رواں سال فورم میں شریک کمپنیوں کی حتمی مجموعی تعداد تاحال الگ سے جاری نہیں کی گئی، تاہم منتظمین نے 80 ممالک کی شرکت کی تصدیق کر دی ہے اور پانچ ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments