سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس

ماسکو: (دنیا نیوز) سائبیریا کی ایک سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور بڑے پیمانے پر قرنطینہ نافذ کر دیا گیا ہے۔

روس کی 28 سالہ محقق داریا شوپیلووا 2 اکتوبر 2026 کو اچانک انتقال کر گئی تھیں، طبی ذرائع کے مطابق موت سے قبل انہوں نے عملے کو بتایا تھا کہ دوران تحقیق ان سے ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گئی تھی جس میں انتہائی خطرناک طاعون کے زندہ حیاتیاتی نمونے موجود تھے۔

روسی محکمہ صحت نے باضابطہ طور پر طاعون کی تصدیق نہیں کی اور اسے نامعلوم نوعیت کا نمونیا قرار دیا لیکن مقامی طور پر غیر معمولی احتیاطی تدابیر نافذ کر دی گئی ہیں۔

خطرناک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اب تک 200 افراد کو فوری طور پر طبی نگرانی میں لے کر قرنطینہ کر دیا گیا ہے، جن میں ہسپتال کا عملہ اور خاتون کے قریبی ساتھی شامل ہیں۔

لیبارٹری کے قریبی ایلومینیم پلانٹ کے ملازمین کو لازمی ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے عالمی سطح پر بھی اس واقعے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام اور عالمی ادارہ صحت اس معاملے کی سخت نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ وبائی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...