مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ
مغربی کنارہ: (ویب ڈیسک) یورپی سفارت کاروں کے ایک وفد پر مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کیا ہے۔
بیلجیئم نے اپنے قونصل جنرل اور دیگر سفیروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واقعہ کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا، انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ اسرائیل کو بدنام کرنے کی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے واقعہ کے صرف ایک دن بعد ہوا ہے جس میں مغربی کنارے کے ایک اور گاؤں میں آبادکاروں کے حملے میں متعدد فلسطینی اور واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین زخمی ہو گئی تھیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے لیوین پر حملے کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ یہ اچھی بات نہیں۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکبی نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اور اسے نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے کیا گیا دہشت گردی کا قابلِ نفرت عمل قرار دیا۔
اس واقعہ میں بیلجیئم، فرانس، پولینڈ اور کیتھولک چرچ کے یورپی سفارت کار رام اللہ کے قریب واقع مسیحی آبادی کی اکثریت والے گاؤں طیبہ آئے تھے، وہ وہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے آئے تھے کیونکہ اسرائیلی قبضہ گیر تقریباً روزانہ ان فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں جو زیتون کی فصل اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جائے وقوعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نقاب پوش آبادکار قافلے کو روکتے ہیں، ان کی جانب سے پتھر بھی پھینکے گئے۔
بیلجیئم کے حکام نے کہا کہ ان کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا جبکہ ایک فرانسیسی میئر پر بھی حملہ کیا گیا، ویڈیو میں فرانسیسی ترنگے کی پٹی پہنے ایک شخص کو گاڑی کے ساتھ جھکا ہوا دیکھا گیا۔
بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ہر روز اس تشدد کا سامنا کرتے ہیں، قبضہ گیر اس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور سفارت کاروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، زیتون کی فصل کاٹنے، خبریں رپورٹ کرنے یا سفارتی فرائض انجام دینے پر کسی کو حملے کے خطرے سے دوچار نہیں کیا جانا چاہئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments