بھارت کا کشمیر پر قبضہ ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ : پاکستان

 بھارت کا کشمیر پر قبضہ ایشیا  میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ : پاکستان

عالمی قانون کے احترام میں کمی تیزی سے تنازعات کو جنم دے رہی ہے ، ہم تنازعات کے پرامن حل کیلئے پرعزم ہیں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی :مندوب عاصم افتخار کااقوام متحدہ میں خطاب

 اقوام متحدہ (اے پی پی)پاکستان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے ، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ھلی خلاف ورزی ہے ۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اورلاکھوں افراد کی زندگیوں اور معاش کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ پاکستان پانی اور قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے  کی مخالفت کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے ۔بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی دنیا بھر میں تنازعات کو تیزی سے جنم دے رہی ہے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کی توثیق کے موضوع پر بحث سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مئی میں پاکستان پر بھارت کے بلااشتعال حملے ، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل نفی اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول، جن میں ریاستوں کی خودمختار برابری، عدم مداخلت، علاقائی سالمیت، طاقت کے استعمال کی ممانعت اور حقِ خودارادیت شامل ہیں، تیزی سے چیلنج ہو رہے ہیں۔ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانا اجتماعی سلامتی کو کمزور اور کثیرالجہتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ قانونی اصولوں کے انتخابی اطلاق اور معاہداتی ذمہ داریوں سے انحراف نے ریاستوں کے درمیان اعتماد کو مجروح کیا ہے ۔ جب قانون طاقت یا وقتی مفاد کے سامنے جھک جائے تو عدم استحکام بڑھتا ہے اور تنازعات مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ بھارت کی فوجی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں کیا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں