امریکا اور ویٹی کن میں سفارتی جھڑپ ، پوپ کے نمائندے کی سرزنش

امریکا اور ویٹی کن میں سفارتی جھڑپ ، پوپ کے نمائندے کی سرزنش

پاپائے روم کے سفیر کو جنوری میں پینٹاگون طلب کر کے سخت پیغام دیا گیا

ویٹیکن سٹی (اے ایف پی)ویٹیکن اور پینٹاگون کے درمیان مبینہ کشیدگی اطلاعات نے ہلچل مچا دی ، ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی دفاعی عہدیدار نے پاپائے روم کے سفیر کو سخت انداز میں تنبیہ کی، تاہم دونوں جانب سے اس تاثر کی تردید کر دی گئی ہے ۔اخبار فری پریس کی رپورٹ کے مطابق ۔ جسے پینٹاگون پہلے ہی جمعرات کو مسخ شدہ قرار دے چکا تھا - کارڈینل کرسٹوف پیئر کو جنوری میں پینٹاگون طلب کیا گیا، جہاں امریکی نائب وزیر دفاع برائے پالیسی ایلبرج کولبی نے انہیں جھاڑتے ہوئے بتایا کہ امریکا کے پاس اتنی فوجی طاقت ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے - اور کلیسا کو چاہیے کہ وہ اس کا ساتھ دے ۔پینٹاگون کی تردید کے ایک روز بعد، ویٹیکن کے ترجمان میٹیو برونی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض میڈیا اداروں کی جانب سے اس ملاقات کے بارے میں پیش کیا گیا مؤقف کسی بھی طرح حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔برونی کے مطابق، پیئر - جو اس دوران ریٹائر ہو چکے ہیں - نے کولبی سے ملاقات  پوپ کے نمائندے کی حیثیت سے معمول کی ذمہ داریوں کے تحت کی، اور یہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کا ایک موقع تھا۔جنوری میں ایک خطاب کے دوران پوپ لیو چہاردہم جو پہلے امریکی پوپ ہیں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ سفارت کاری کی جگہ طاقت پر مبنی سفارت کاری لے رہی ہے ، اور کہا تھا کہ جنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔پینٹاگون نے فری پریس کی رپورٹ کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر اور مسخ شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات دراصل باوقار اور معقول گفتگو تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں