معاشی دباؤ،جنگ میں ٹرمپ کی سب سے بڑی کمزوری
مہنگائی بڑھ رہی ،مقبولیت کم ہورہی ، امریکی صدر کو معاہدے کی جلدی جنگ جلد ختم ہو بھی جائے تو حالات کی درستگی میں مہینے نہیں سال لگ سکتے ٹرمپ نے غلط اندازے لگائے ، یورپ اور خلیجی ممالک کو مستقبل کی فکر ملک کا ایک بڑا حصہ ناراض ، ٹرمپ کو سیاسی قیمت چکانا پڑے گی:تجزیہ کار
واشنگٹن (رائٹرز) سات ہفتوں کی جنگ ایران کی مذہبی حکومت کو ختم کرنے یا اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی ہے ، تاہم اس نے امریکا کے حریفوں اور اتحادیوں دونوں کیلئے ایک اہم پہلو کو نمایاں کر دیا ہے ، یعنی معاشی دباؤ۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے جمعہ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کیلئے کھولنے کے اعلان کے باوجود مشرق وسطٰی کا یہ بحران اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اندرونی معاشی دباؤ برداشت کرنے کی حد محدود ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ طویل تنازعات کے دوران توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات امریکی پالیسی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں میں حصہ لیا تھا۔
ان کے مطابق یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام سے جڑے فوری سکیورٹی خطرات کی بنیاد پر کیا گیا۔ تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بلند ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے ، جس کے باعث صدر ٹرمپ تیزی سے ایک سفارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اندرونی معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ایران کو فوجی طور پر نقصان پہنچا ہے ، لیکن اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے معاشی اثرات ڈال سکتا ہے جنہیں ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے کم سمجھا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی میں اب تک کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوا ہے ۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کی جانب سے عالمی کساد بازاری کے خطرے کی وارننگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔غیر مقبول جنگ سے نکلنے کیلئے دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکنز کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایران کی قیادت سے بھی پوشیدہ نہیں رہی، جس نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حریف چین اور روس بھی اس صورتحال سے اپنا الگ سبق لے سکتے ہیں کہ اگرچہ ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں فوجی طاقت کے استعمال میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن جیسے ہی اندرونی سطح پر معاشی دباؤ بڑھتا ہے ، وہ جلد سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سابق اوباما انتظامیہ کے خارجہ پالیسی مشیر بریٹ برون جو اس وقت گلوبل سیچوایشن روم نامی سٹریٹجک کنسلٹنسی کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ ٹرمپ معاشی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جو اس جنگ میں ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے ،معاشی دباؤ کا کچھ حصہ امریکی کسانوں پر بھی پڑا ہے جو ٹرمپ کے اہم حمایتی حلقوں میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ کھاد کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی طرح جیٹ فیول کی قیمتیں بڑھنے سے فضائی کرایوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔دو ہفتوں کی جنگ بندی کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے ، اور یہ واضح نہیں کہ غیر متوقع فیصلوں کیلئے مشہور صدر کوئی ایسا معاہدہ کر پائیں گے جو ان کے جنگی اہداف کو پورا کرے ، جنگ بندی کو 21 اپریل کے بعد بڑھایا جائے گا، یا دوبارہ بمباری کی مہم شروع کی جائے گی۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ جنگ جلد ختم ہو بھی جائے ، اس کے معاشی اثرات کو درست ہونے میں مہینے نہیں بلکہ ممکن ہے سال لگ جائیں۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ان مقاصد کو پورا کر پائے گا جو ٹرمپ نے بیان کیے ہیں، جن میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے راستے کو بند کرنا شامل ہے - جبکہ تہران مسلسل یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ماہرین کے مطابق جس طرح ٹرمپ نے تجارتی جنگ میں بیجنگ کے ردعمل کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔
اسی طرح اس بار بھی انہوں نے یہ اندازہ غلط لگایا کہ ایران فوجی حملے کے جواب میں معاشی طور پر کیسے ردعمل دے گا، خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں توانائی کے ڈھانچے پر حملوں اور اہم آبی گزرگاہ کو متاثر کرنے کے ذریعے ۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے غلط طور پر یہ سمجھا تھا کہ یہ جنگ بھی ایک محدود نوعیت کی کارروائی ہوگی، جیسی 3 جنوری کو وینزویلا میں ایک تیز کارروائی یا جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے تھے ،لیکن اس بار نتائج کہیں زیادہ وسیع اور سنگین ثابت ہوئے ہیں۔یورپی ممالک بھی اس بات پر ناخوش ہیں کہ وہ ایسی جنگ کے معاشی اثرات برداشت کر رہے ہیں جس میں وہ شامل نہیں تھے ، اور اب ان کے اندر یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ امریکا یوکرین کی جنگ میں روس کے خلاف اپنی امداد جاری رکھنے کے حوالے سے بھی غیر یقینی رویہ اپنا سکتا ہے ۔خلیجی عرب ممالک چاہتے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے ، لیکن ان کی تشویش یہ ہے کہ اگر ٹرمپ ان کے لیے سکیورٹی ضمانتوں کے بغیر کوئی معاہدہ کر لیتے ہیں تو خطے میں عدم استحکام برقرار رہ سکتا ہے ۔ایریزونا کے سیاسی تجزیہ کار چک کافلن کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہے کہ ملک کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ کے اقدامات کے سخت خلاف ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس کی سیاسی قیمت انہیں ادا کرنا پڑے گی۔