مینڈلسن تقرری ،برطانوی وزیر اعظم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی
مجھے مینڈلسن کی سکیورٹی جانچ میں ناکامی کی اطلاع نہیں دی گئی،کیئر سٹارمرکا اصرار اپوزیشن کا استعفے کا مطالبہ ،سینئر وزرا نے کیئر سٹارمر کی حمایت میں صف بندی کر لی
لندن (اے ایف پی)بحران کا شکار برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو کہا کہ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انہوں نے لیبر پارٹی کے سیاستدان پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کا سفیر مقرر کر کے غلطی کی تھی،پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے ایک غلط فیصلہ کیا۔ مجھے پیٹر مینڈلسن کو مقرر نہیں کرنا چاہیے تھا۔انہیں گزشتہ ہفتے مزید استعفے کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا جب یہ انکشاف ہوا کہ مینڈلسن جن کی مرحوم امریکی مجرم اور جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے ساتھ دوستی پہلے سے معلوم تھی- مینڈلسن کو گزشتہ سال برطانیہ کا واشنگٹن میں سفیر مقرر کیا گیا تھا، حالانکہ وہ سکیورٹی جانچ میں ناکام رہے تھے ۔اسٹارمر نے اصرار کیا ہے کہ انہیں اور دیگر وزرا کو گزشتہ ہفتے تک یہ اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ مینڈلسن انڈیپنڈنٹ ویٹنگ پروسیس میں ناکام ہو چکے ہیں
،انہوں نے اراکینِ پارلیمنٹ سے کہا اگر مجھے ان کی تقرری سے پہلے یہ معلوم ہوتا کہ اس کی سفارش یہ تھی کہ مکمل سکیورٹی کلیئرنس نہ دی جائے ، تو میں اس تقرری کو آگے نہ بڑھاتا۔اپوزیشن نے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سینئر وزرا نے کیئر اسٹارمر کی حمایت میں صف بندی کر لی ہے ۔اسکاٹ لینڈ کے سیکرٹری ڈگلس الیگزینڈر نے پیر کو کہایہ ایک رائے تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر روایتی تھی اور ایک غیر روایتی سفیر برطانیہ کے لیے کام کر سکتا تھا۔انہوں نے کہا وہ فیصلہ غلط تھا اور وزیرِ اعظم نے اسے تسلیم کر لیا ہے ، انہیں جانا ہوگا۔دیگر وزرا کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی بے یقینی اور دیگر معاملات، جیسے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا، کے پیش نظر اسٹارمر کو اقتدار میں رہنا چاہیے ۔تاہم رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ اسٹارمر برطانیہ کے سب سے غیر مقبول وزرائے اعظم میں سے ایک ہیں۔