امریکا: 2قاتلوں کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت
جیمز ہچکاک کو1977میں سوتیلی بھانجی کے قتل میں سزاہوئی، 50سال قیدرہا جیمز ہراڈ نیکس کو 2008میں 2میوزک پروڈیوسرزکے قتل،ڈکیتی میں سزاہوئی
میامی (اے ایف پی)امریکا میں قتل کے 2مجرموں کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دے دی گئی ،ان میں سے ایک 70سالہ مجرم سوتیلی بھانجی کے قتل میں 50سال سے قید تھا جبکہ دوسرے 37سالہ مجرم نے 2008میں 2میوزک پروڈیوسرزکو قتل کیاتھا۔تفصیلا ت کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا میں جیمز ہچکاک کو 1976 میں اپنی 13 سالہ سوتیلی بھانجی سنتھیا ڈرگرز کے قتل کے جرم میں 1977 میں سزائے موت سنائی گئی تھی،اسے رائیفورڈ کی ریاستی جیل میں سزائے موت دی گئی۔ فلوریڈا محکمہ اصلاحات کے مطابق وہ امریکا میں طویل ترین عرصہ ڈیتھ رو میں گزارنے والے قیدیوں میں شامل تھا۔ ریاست ٹیکساس میں 37 سالہ جیمز براڈنیکس کو 2008 میں دو میوزک پروڈیوسرز کے قتل اور ڈکیتی کے جرم میں زہریلا انجکشن دے کر ہلاک کیا گیا۔ اپنے آخری بیان میں براڈنیکس نے کہاکہ چاہے آپ میرے بارے میں کچھ بھی سوچیں ، میں بے گناہ ہوں۔ رواں سال امریکا میں اب تک 10 سزائے موت دی جا چکی ہیں، جن میں چھ فلوریڈا، تین ٹیکساس اور ایک اوکلاہوما میں دی گئی۔
گزشتہ سال ملک میں 47 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے ۔2025 میں فلوریڈا میں سب سے زیادہ 19 سزائیں دی گئیں جبکہ الاباما، ساؤتھ کیرولینا اور ٹیکساس میں پانچ، پانچ افراد کو سزائے موت دی گئی۔ گزشتہ سال 39 سزائیں زہریلے انجکشن کے ذریعے ، تین فائرنگ سکواڈ اور پانچ نائٹروجن گیس کے ذریعے دی گئیں۔واضح رہے کہ نائٹروجن گیس کے استعمال کو اقوام متحدہ کے ماہرین نے ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے ۔امریکا کی 50 میں سے 23 ریاستوں میں سزائے موت ختم کی جا چکی ہے ، جبکہ کیلیفورنیا، اوریگن اور پنسلوانیا میں اس پر عملدرآمد عارضی طور پر معطل ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سزائے موت کے حامی ہیں اور انہوں نے سنگین جرائم کیلئے اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔