ٹرمپ کا اٹلی اور سپین میں امریکی فوجی کم کرنے غور
واشنگٹن(اے ایف پی)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ پر ان ممالک کی مخالفت کے باعث اٹلی اور سپین سے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔۔۔
ایک روز قبل انہوں نے جرمنی سے بھی اسی نوعیت کی ممکنہ کمی کی تجویز دی تھی۔اوول آفس میں صحافیوں کے سوال پر کہ کیا وہ سپین اور اٹلی سے بھی امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے پر غور کریں گے ، ٹرمپ نے کہا:ہاں، ممکن ہے ، میں شاید ایسا ہی کروں۔ آخر کیوں نہیں؟انہوں نے مزید کہا:اٹلی نے ہماری کوئی مدد نہیں کی اور سپین بہت خراب رہا ہے ، بالکل ہی خراب۔ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن جرمنی میں موجود امریکی فوجیوں کی ممکنہ کمی کا جائزہ اور مطالعہ کر رہا ہے اور وہ جلد فیصلہ کریں گے ۔31 دسمبر 2025 تک اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں 12ہزار 662 امریکی فعال فوجی موجود تھے ،سپین میں 3ہزار 814 فوجی اور جرمنی میں 36ہزار 436 فوجی تعینات تھے ، امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل آپریشن میں مدد نہیں کر رہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے کھلا رکھنے میں تعاون کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے سپین کو دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔