اسرائیل نے غزہ جانیوالی امدادی کشتیاں روک دیں،100گرفتار
آئرش صدر کیتھرین کونولی کی بہن سمیت 8 شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا
یروشلم،بیروت،ڈبلن (اے ایف پی، مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فورسز نے پیر کو غزہ جانے والی امدادی کشتیاں روک دیں، نیتن یاہو نے اس مشن کو "شر انگیز منصوبہ"قرار دیا ۔گلوبل صمود فلوٹیلہ گروپ نے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ اسرائیل نے ایک بار پھر ہمارے جہازوں کو غیر قانونی اور پرتشدد طریقے سے روکا ، ہمارے رضاکاروں کو گرفتار کر لیا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی نے سوشل میڈیا پر ہنگامی پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بحیرہ روم میں فلوٹیلہ کو سمندر میں روک لیا گیا ، ایک کشتی پر فائرنگ بھی کی گئی ۔ اسرائیلی فوج نے 100 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لے لیا ۔ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سعد ایدھی
نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ شاید ہماری آخری اپڈیٹ ہو ۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد ایدھی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے ۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز نے امدادی فلوٹیلہ میں شامل آئرلینڈ کے صدر کیتھرین کونولی کی بہن سمیت آٹھ آئرش شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا ۔ آئرش صدر نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیل فوری طور پر اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی فوج نسل کشی جیسے اقدامات میں ملوث نہ ہو۔ کوہ پیما مصطفی سلامہ غزہ کے بچوں کے خوابوں پر مشتمل ایک پتنگ کو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر لے جانے کے مشن پر ہیں۔ فلسطینی پرچم کے رنگوں سے مزین اس پتنگ پر جنگ سے متاثرہ بچوں کے ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات درج ہیں۔ سلامہ کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام کے ذریعے غزہ کے بچوں کی حالت زار کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس مہم کے ذریعے ایک کروڑ ڈالر جمع کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تاکہ متاثرہ بچوں کی مدد کی جا سکے ۔لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 7 افراد شہید ہو گئے ۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان18مارچ سے جاری جنگ کے دوران اب تک اسرائیلی حملوں میں 3020 افراد شہید اور 9273 زخمی ہوچکے ،لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ روکنے کیلئے ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گے ۔بطور صدر ان کی ذمہ داری ہے کہ لبنان اور اس کے عوام کے خلاف جنگ ختم کرنے کیلئے کم سے کم نقصان والے راستے کا انتخاب کریں۔