8 فروری کی ہڑتال طاقت سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش

 8 فروری کی ہڑتال طاقت سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش

پختونخوا میں ہڑتال ممکن ،اثرات پورے ملک کی سیاست پر مرتب ہونے کا امکان کم

(تجزیہ:سلمان غنی)

اپوزیشن کی جانب سے 8 فروری کو ہڑتال اور احتجاج کیلئے اپنی تنظیموں اور اراکین کو متحرک ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی بھی جیل بھرو تحریک کے اشارے دیتے نظر آ رہے ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے 8 فروری کو ہڑتال اور احتجاج کا بڑا چیلنج اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی کو درپیش ہے ۔ پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 8 فروری کو وہاں ہڑتال ہو سکتی ہے ، لیکن بڑا اور بنیادی سوال یہ ہوگا کہ اتوار کے روز دی جانے والی ہڑتال کی کال کس حد تک ملک گیر ہوگی، اور کیا پنجاب و دیگر صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کے ذمہ داران اور کارکن احتجاج کیلئے نکلیں گے۔

۔8 فروری کی ہڑتال کے حوالے سے ماہرین ابھی سے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ طاقت کے مظاہرے سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش ہوگی۔ یہ کال ملک گیر سطح پر تو کامیاب نہیں ہو سکتی، اور پہیہ جام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن اس کے ذریعے یہ پیغام ضرور دیا جا سکے گا کہ پی ٹی آئی سیاسی طور پر ختم نہیں ہوئی اور وہ ایک سیاسی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔اگر 8 فروری کی ہڑتال پر حکومتی ردِعمل کو ماضی کے تجربات اور موجودہ پاور سٹرکچر کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ خاموش تماشائی والا نہیں ہوگا، بلکہ انتظامی مشینری روایتی انداز میں ایسا ماحول پیدا کرے گی کہ کوئی مؤثر احتجاج یا مظاہرہ نہ ہو سکے ۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ ہڑتال اور احتجاج کے روز بعض سرگرم عہدیداران اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا جائے ۔

حکومت متعدد مواقع پر اس موقف کا اظہار کرتی آئی ہے کہ ملک معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہے اور دنیا کے سامنے پاکستان کی مثبت تصویر بن رہی ہے ، لہٰذا ہڑتال یا احتجاج سیاسی انتشار پھیلانے کی کوشش ہے ، جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔حکومت کی کوشش ہوگی کہ 8 فروری کو ایک عام دن کے طور پر پیش کیا جائے اور کہیں بھی کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہ ہو۔ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی نے مایوس کن سیاسی صورتحال میں ہڑتال کی کال بہت سوچ سمجھ کر دی اور اتوار کا دن منتخب کیا ہے ۔ بہرحال، پی ٹی آئی اس دن یہ سوال ضرور چھوڑ جائے گی کہ اس کے پاس احتجاج کے سوا کوئی اور آپشن نہیں۔سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات نے پاکستان میں احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے آگے ایک مضبوط بند باندھ دیا ، اور اب ریاست اور حکومت کسی جماعت کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ ملک میں ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال پیدا کرے ۔نتیجتاً، 8 فروری کی ہڑتال کو کوئی ٹرننگ پوائنٹ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ اپنی سیاسی بقا اور قوت کو جانچنے کی ایک مشق ہے ۔ اس کے نتیجے میں نہ حکومت کمزور ہوگی اور نہ ہی ملک میں ایسی کوئی کیفیت پیدا ہو گی کہ حکومت اپوزیشن کے دباؤ کے سامنے جھک گئی ہو۔البتہ پختونخوا میں ہڑتال اور احتجاج ممکن ہے ، لیکن اس کے اثرات پورے ملک کی سیاست پر مرتب ہونے کا امکان کم ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں