مالی بے قاعدگیاں، نا اہلی:پختونخوا میں 24ارب کا منصوبہ ناکام
10گنا مہنگا فرنیچر، سولر خریدا گیا، 78لاکھ کی رسیدیں غائب، ٹھیکوں سے 7.8ارب نقصان 700بھوت ملازم، تنخواہوں کے 51کروڑ ہڑپ، نشاندہی پر افسر فارغ:آڈٹ رپورٹ
پشاور (عابدحمید)مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات،بھوت ملازمین کی بھرتی اور انتظامی نااہلی، محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا انسانی سرمایہ کاری پراجیکٹ ناکامی کا شکار ہوگیا، 24ارب روپے کے پراجیکٹ میں مبینہ اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں سامنے آگئیں۔ نشاندہی پر افسر کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے انسانی سرمایہ کاری پراجیکٹ کا 2021میں آغاز کیاگیا، چار اضلاع پشاور،نوشہرہ،صوابی اور ہری پور کو شامل کیاگیا جس کا مقصد صحت کی بنیادی سہولیات بہتر بنانا تھا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2022کے سیلاب میں تباہ 158عمارتوں کے ٹھیکے دومن پسند کمپنیوں کو دیئے گئے ، زائد قیمت پر ٹھیکوں سے 7اعشاریہ 8 ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایاگیا۔ خاندانی منصوبہ بندی کیلئے بغیر بولی اشیاء خریدی گئیں، ہسپتالوں کو بلاضرورت اور بغیر ڈیمانڈ و بولی ادویات خرید کر فراہم کی گئیں، مہنگے داموں خریدنے سے ایک ارب روپے کا نقصان ہوا، فرنیچر،آلات اورشمسی توانائی کا سسٹم دس گنازائد قیمت پر خریداگیاجس سے دو ارب روپے نقصان ہوا۔
78لاکھ روپے کی اوپی ڈی رسیدوں کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ جعلی طریقہ کار کے ذریعے من پسند کمپنی ہائیر کرکے بیس کروڑ روپے دیئے گئے ۔ سات سو بھوت ملازمین کو بھرتی اور ان کی تنخواہوں کی مد میں اکیاون کروڑ روپے سے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ کروڑوں روپے کی ادویات خریدی گئیں لیکن سٹوریج کا بندوبست ہی نہیں تھا۔فیول اور دیگراخراجات کی مد میں 3 کروڑ روپے سے زائد ڈکارلئے گئے ، بعض افسروں کو کروڑوں روپے اضافی الاؤنس دینے کا بھی انکشاف ہوا۔ کنسلٹنٹ کمپنیوں اور افراد سے سیلز ٹیکس عدم کٹوتی اور خلاف ضابطہ بھرتیوں سے کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا۔آڈٹ رپورٹ کی سفارشات پرعملدرآمدکے بجائے مانیٹرنگ ایویلویشن ایکسپرٹ محمد اکبر کو عہدے سے ہٹادیاگیا۔ رپورٹ میں جن افسروں کوذمہ دار ٹھہرایاگیا ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکی۔ محمد اکبر کے مطابق قواعد کے مطابق تمام معاملات محکمہ صحت کے حکام کے سامنے لائے گئے لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔