قومی یکجہتی سے دہشتگردی اور فرقہ واریت کو ناکام بنائینگے ، علما مشائخ کونسل
عبادت گاہوں میں بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار اور آئینی و اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی افواج پاکستان کیساتھ ہیں ،فتنۂ خوارج کی گمراہ کن سوچ اور دہشت گردی کے تمام بیانیوں کو مسترد کرتے ہیں، متفقہ اعلامیہ
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ) علما مشائخ کونسل کے اجلاس کا 15 نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا،شرکا نے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، اعلامیہ میں کہا گیا کہ عبادت گاہوں میں بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار اور آئینی و اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی ہے ،مشترکہ دینی رہنمائی، قومی یکجہتی اور باہمی تعاون کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت کے تمام بیانیوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
اجلاس نے فتنۂ الخوارج کی گمراہ کن سوچ اور دہشت گردی کے تمام بیانیوں کو مکمل طور پر مسترد کیا، پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے والی اندرونی ، بیرونی سازشوں اور پراکسی سرگرمیوں کا قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون سے بھرپور مقابلہ کیا جائے گا، علما و مشائخ خطبات، مدارس اور مذہبی اجتماعات میں امن، رواداری، اخوت اور باہمی احترام کے پیغام کو فروغ دیں گے ،نفرت انگیز و تکفیری بیانیے کی بھرپور تردید کے ذریعے نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے میں مؤثر کردار ادا کریں گے ، اعلامیہ کے مطابق حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی سکیورٹی مزید مؤثر بنایا جائے گا،انتظامیہ اور انتظامی کمیٹیوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے ، اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع کے نظام کو فعال بنانے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، مذہبی قیادت، میڈیا اور عوام کے مابین مربوط شراکت داری ناگزیر ہے ، حکومت کی دہشتگردی کے خلا زیرو ٹالرنس پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ، شہداء کے خاندانوں کی معاونت اور زخمیوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔
باہمی مشاورت، اتفاقِ رائے اور محبت کے ساتھ نماز کے یکساں اوقات کے نظام کو مؤثر طور پر نافذ کیا جائے گا، ماہِ رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اجلاس نے قوم کو صبر، تقویٰ، اخوت، باہمی ہمدردی، رواداری اور خدمتِ خلق کا پیغام دیا ۔پاکستان میں امن، استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کو ہر صورت مضبوط کیا جائے گا، تمام علما و مشائخ اور پوری قوم حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ، قبل ازیں وزیر مذہبی امورسردار یوسف کی زیر صدارت علما و مشائخ کا اجلاس ہوا جس میں تمام راولپنڈی و اسلام آباد کے مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے شرکت کی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکا نے سانحہ ترلائی کلاں اسلام آباد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فی الفور امداد کا اعلان کرے اور اس دہشتگردی میں ملوث اصل اور پشت پناہی کرنے والی قوتوں کے سرغنوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے ۔