گندم کی خرید و ذخیرہ کیلئے پاسکو ختم ، نئی کمپنی قائم کرنیکا فیصلہ
نئی کمپنی پاسکو کے 527ارب روپے کے واجبات بھی اپنے ذمے لے گی اصلاحات اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظور ہو چکی ہیں:ذرائع
لاہور (آن لائن)حکومت نے گندم کی خریداری اور ذخیرہ کے نظام میں بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نئی کمپنی قائم کرنے کی تیاری مکمل کر لی،جس کا مقصد مالی بوجھ کم کرنا اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانا ہے ۔ذرائع کے مطابق نئی کمپنی ’’ویٹ سٹاک مینجمنٹ کمپنی (ڈبلیو ایس ایم سی)‘‘ کے نام سے کام کرے گی اور پاسکو کی جگہ لے گی جسے مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ نئی کمپنی پاسکو کے 527 ارب روپے سے زائد کے واجبات بھی اپنے ذمے لے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر ڈکر لیا گیا اور اسے قومی سطح پر گندم کے ذخائر کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ اس کا مجاز سرمایہ 350 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ یہ حکومتی ضمانت کے تحت بینکوں سے طویل مدتی قرضہ بھی حاصل کر سکے گی۔مزید بتایا گیا ہے کہ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کو کمپنی کا چیئرمین بنانے کی تجویز زیر غور ہے ،جبکہ بورڈ میں دیگر اہم سرکاری شخصیات بھی شامل ہوں گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، صوبوں کو ادائیگی میں تاخیر اور انتظامی کمزوریوں جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ یہ اصلاحات پہلے ہی اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظور ہو چکی ہیں جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں۔