پاکستان کے 40فیصد بچے غذائی قلت کا شکار،اصلاحات پر زور
ہیلتھ سروسز اکیڈمی ،یونیسف کی کانفرنس،غذائی بحران سے نمٹنے کیلئے سفارشات پیش
اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار، حکومت، عدلیہ اور ماہرین صحت نے پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کی کمی کے سنگین بحران سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کے ذریعے قوانین کو یکجا کرنے اور فوری نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور یونیسف کے اشتراک سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس ہوئی جس کا عنوان ’’بکھری ہوئی پالیسیوں سے قابل نفاذ حقوق تک:پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کیلئے قانونی اصلاحات‘‘تھا۔وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس سید محمد انور نے کہا کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل نہ ہونا ایک المیہ ہے ، اور ریگولیٹری اداروں کو ماں کے دودھ کے متبادل کی غیر قانونی تشہیر روکنے کے لیے فعال ہونا چاہیے ۔ یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے بتایا کہ پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت (سٹنٹنگ) کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں اور بچوں کے حقوق کو قابل نفاذ بنایا جانا چاہیے ۔نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن نورین بانو نے کہا خواتین کے لیے ڈے کیئر سینٹرز اور بریسٹ فیڈنگ کے محفوظ ماحول کے بغیر بچوں کی صحت کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے ۔ کانفرنس میں سفارش کی گئی کہ انفینٹ فیڈنگ بورڈز کو بحال کیا جائے ، سرکاری و نجی دفاتر میں خواتین کے لیے ڈے کیئر اور بریسٹ فیڈنگ کارنرز لازمی ہوں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے ، اور وفاق و صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کے لیے مرکزی میکانزم بنایا جائے ۔