جی بی قانون سازی کا معاملہ حکومت خود حل کرے، اجازت کیوں مانگ رہی؟ وفاقی آئینی عدالت
پہلے کہتے عدالتیں مداخلت کرتیں،اب خودکیسزلارہے ،پارلیمانی بحث عدالت آئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائیگا :جسٹس رضوی لگتا ہے حکومت کو بہت جلدی :جسٹس کے کے آغا، ریکارڈطلب،انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 7ای کیس کی روزانہ سماعت
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان میں مجوزہ قانون سازی سے متعلق اہم کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکومت کو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قانون سازی کیلئے عدالت سے اجازت مانگنے پر بھی سوالات اٹھا دیئے ۔تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے جسے حکومت خود حل کرے ۔دوران سماعت جسٹس اظہرحسن رضوی نے استفسار کیا کہ قانون سازی کیلئے عدالت سے اجازت کیوں مانگی جا رہی ہے ،پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں آئی تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا اور عدالت کو تمام فریقین کو نوٹسز دینا پڑیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا حکومت پہلے کہتی ہے عدالتیں مداخلت کرتی ہیں اور اب خود ایسے مقدمات لے کر آ رہی ہے، یہ سیاسی ایشو ہے حکومت خود حل کرے، جسٹس رضوی نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان سے متعلق قانون سازی کیلئے سینئر سیاستدانوں سے مشاورت کی جائے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے مؤقف اپنایا کہ حکومت قانون سازی کرنے کی مجاز ہے تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اجازت درکار ہے، گلگت بلتستان چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن قانون میں شامل نہیں جسے شامل کرنا ہے جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی پانچ سالہ مدت کے تعین کی تجویز بھی زیر غور ہے ، جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے حکومت کو بہت جلدی ہے کیونکہ عام طور پر حکومت اتنی جلدی نہیں کرتی، بعد ازاں سماعت ملتوی کر دی گئی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7ای کی تشریح اور آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کی، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر تے ہوئے آئندہ ہفتے سے کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے کا فیصلہ کیا۔
ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان کھوکھر کی استدعاپرآئینی عدالت نے اسلام آبادہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا ۔مزیدبرآں وزیر آباد کی جائیداد تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے اہم سوالات اٹھا دیئے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مختلف فیصلوں میں چار بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو کیوں دیا گیا؟۔ کیس کی مزید سماعت آٹھ اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔ کیس کے پس منظر میں بتایا گیا کہ والد کی وفات کے بعد 1989 میں جائیداد تین بہنوں اور دو بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوئی تھی جبکہ 2018 میں فریق بہن نورین نے پرانی تقسیم کو عدالت میں چیلنج کیا، کمشنر ریونیو نے زمین کی تقسیم کا فیصلہ نورین کے حق میں دیا تھا،بعد ازاں چوتھی بہن سردار بیگم نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے کی درخواست دی تھی، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے انہیں بھی جائیداد میں حصہ دینے کا واضح حکم دیا تھا۔